شرمیلا فاروقی کا مطالبہ،الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

آئین و قانون کی خلاف ورزی کس نے کی؟
شادی کی عمر اٹھارہ سال مقرر کرنے والے قانون پر مولانا فضل الرحمٰن کی مخالفت کے بعد قومی اسمبلی میں شرمیلا فاروقی کا ان کو سزا دینے کا مطالبہ محض ایک فرد یا جماعت پر تنقید نہیں، بلکہ ایک خطرناک فکری رجحان کی عکاسی ہے۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کسی نے قانون توڑنے کی بات کی، بلکہ اصل اور بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ قانون بنا ہی کیوں، کس اختیار سے بنا، اور کس آئینی بنیاد پر؟
یہ بات سمجھنا ناگزیر ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون ایک چیز نہیں۔آئین ریاست کی اساس اور بالادست دستاویز ہے، جبکہ قانون اس کے تابع ہوتا ہے۔آئینِ پاکستان کی دفعہ 227 بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ جو قانون اس شق سے متصادم ہو، وہ محض ایک متنازع قانون نہیں بلکہ آئین شکنی ہے۔
ایسے میں اگر کوئی رکنِ اسمبلی یا سیاسی قائد اس قانون کو چیلنج کرتا ہے تو وہ مجرم نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی کا مطالبہ کرکے اپنا فریضہ ادا کررہے ہیں،اصل مجرم وہ ہیں جنہوں نے آئین کے اسلامی تشخص کو نظرانداز کر کے پاؤں تلے روند ڈالا،اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اس آئینی انحراف پر آواز اٹھانے والوں کو سزا دینے کی بات کی۔
یہ کیسی منطق ہے کہ آئین کے خلاف قانون بنایا جائے، اور پھر جو اس آئینی تضاد کی نشاندہی کرے اسے جیل بھیجنے کی بات کی جائے؟ اگر واقعی سزا کا سوال ہے تو پھر جیلیں ان لوگوں کے لیے ہونی چاہئیں جنہوں نے آئین سے انحراف کیا، نہ کہ ان کے لیے جو قرآن و سنت کی بالادستی اور آئین کی روح کے مطابق بات کر رہے ہیں۔
یہ ملک کسی فرد، این جی یا یورپ سے درآمد شدہ نظریے پر نہیں بنا، بلکہ ایک واضح اسلامی آئین پر قائم ہے۔ آئین سے انحراف کو ترقی اور اختلافِ رائے کو جرم بنانا جمہوریت نہیں، بلکہ فکری آمریت ہے۔
اس ساری بحث کا سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ سزا کا مطالبہ کرنے والوں کی اپنی اخلاقی ساکھ کیا ہے؟ شرمیلا فاروقی کے والدین پر کرپشن کے سنگین الزامات سامنے آ چکے ہیں، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نیب کے ساتھ اسی محترمہ نے بھاری رقم کے عوض پلی بارگین کے ذریعے جان چھڑائی گئی۔ جو لوگ خود احتساب سے بچنے کے لیے ریاستی اداروں سے سودے بازی کریں، وہی آج آئین کے مطابق بات کرنے والے ایک رکنِ اسمبلی کو قومی مجرم قرار دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔
یہ کیسا دوہرا معیار ہے کہ سزا سے بچنے والے خود کو قانون کا محافظ ظاہر کریں،صوبہ سندھ پر یہ محترمہ طویل عرصے سے حکومت کرتی آرہی ہے،کچے کے ڈاکؤں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے اس پر تو ان کے منہ سے دو لفظ نہیں نکل رہے ہیں،صوبہ سندھ کی پسماندگی اور ناگفتہ بہ حالت خود اس کے کردار اور دیانت پر ایک بڑا سوال ہے
حقیقت یہ ہے کہ آئین کے خلاف قانون سازی کرنے والے ہی اصل میں سزا اور گرفتاری کے مستحق ہیں، نہ کہ وہ لوگ جو اسلام، آئین اور ریاست کے نظریاتی تشخص کے حق میں کھڑے ہیں۔اختلافِ رائے کو دبانا اور آئین شکنی کو ترقی کا نام دینا پاکستان کو جمہوریت نہیں بلکہ ایک خطرناک فکری بند گلی کی طرف لے جا رہا ہے۔یہ وہ عناصر ہیں جو ملک میں ملک میں ایپسٹین جیفری اور بل گیٹس کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں۔

تبصرہ لکھیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *