سید سلمان گیلانی بہت عظیم تھے
گزشتہ شب اکابر کی فکری صداقتوں کے امین وصداکار اورہمارے محبوب سید سلمان گیلانی اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے، آج بعد نمازِ ظہر جامعہ اشرفیہ لاہور میں ان کا جنازہ ادا ہوا اور تدفین عمل میں آئی۔ ان کی وفات کی خبر جیسے ہی وائرل ہوئ سوشل میڈیا پر تعزیتی کلمات کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ ہر طبقے، ہر جماعت اور ہر مکتبِ فکر کے لوگ انہیں ایک عظیم انسان کہہ رہےتھے۔یہ اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ دراصل ان کی پوری زندگی کا حاصل تھا۔
متعلقہ خبریں
عام طور پر ان کا تذکرہ مزاح، مزاحیہ شاعری اور نعت خوانی کے حوالے سے کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی شخصیت ان دائروں سے کہیں بڑھ کر وسیع تھی۔ وہ محض ایک شاعر یا خوش گفتار نعت خواں نہیں تھے؛ وہ ایک صاحبِ دل انسان تھے اور یہی ان کی اصل شناخت تھی۔
انسان کو پہچاننے کا ایک معتبر ذریعہ سفر ہوتا ہے۔ مجھے جنوری 2020ء میں ان کے ساتھ عمرہ کے سفر میں شریک ہونے کا موقع ملا، جس میں قائدِ جمعیت دامت برکاتہم کی معیت بھی حاصل تھی۔ اس سفر نے ان کی شخصیت کا وہ پہلو دکھایا جو رسمی ملاقاتوں میں ظاہر نہیں ہوتا۔ عموماً لوگ دور سے بہتر لگتے ہیں اور قربت میں کمزوریاں نمایاں ہوتی ہیں، لیکن گیلانی صاحب کے معاملے میں معاملہ الٹ تھا۔ اگر دور سے کبھی کوئی کمی محسوس ہوئی بھی تو قربت نے اسے حسنِ گمان میں بدل دیا اور دل میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ وہ محض جماعتی کارکن، شاعر یانعت خواں نہیں بلکہ بڑے ظرف کے انسان ہیں۔
ان کے اخلاق اور شخصیت میں عجب کشش تھی،تواضع، انکسار، ظرافت، تدبر اور تقوی سب ایک ساتھ جمع تھے۔ اور اکابر کے ساتھ ان کی طویل رفاقت اور وہاں سے حاصل کیا ہوا فیض ان کی گفتگو میں جھلکتا تھا۔ وہ موقع کی مناسبت سے ایسی بات کہہ دیتے جو دل میں اترجاتی۔ یہ وصف کم لوگوں کو نصیب ہوتاہے۔
ہمیں ان کے قریب رہنے کے کئی مواقع ملے۔ اسفار میں بھی وہ میرے پاس تشریف لے آتے، دفتر الجمعیۃ میں میرے پاس قیام بھی کیا، فون پر مسلسل رابطہ رہتا اور لاہور میں ان کے گھر حاضری بھی ہوئی۔ وہ اس انداز سے ملتے جیسے ہم عمر دوست ہوں،حالانکہ عمر کا خاصا فرق تھا۔ یہی کیفیت صرف میرے ساتھ نہیں تھی ،آج جب لوگوں کے تاثرات دیکھے تو ہر شخص یہی کہہ رہا تھاکہ وہ اسے اپناسمجھتے تھے۔یہی ان کی بڑائی ، یہی ان کی عظمت تھی
ان کا جمعیت علماء اسلام سے تعلق محض فکری نہیں بلکہ قلبی تھا۔ قائدِ جمعیت کے ساتھ ان کا رشتہ کارکن اور قائد کا نہیں بلکہ بھائیوں جیسا تھا۔ وہ ہر دور میں چٹان کی طرح ساتھ کھڑے رہے۔ دفاع بھی کیا، تحسین بھی کی اور مجالس کی رونق بھی بنے۔ ہر اہم جلسے میں شریک ہوتے اورقائدکا حکم ملنے پر خصوصی کلام پیش کرتے۔
ایم آر ڈی کے مشکل دور میں، سرکاری ملازم ہونے کے باوجود، انہوں نے جرأت کا مظاہرہ کیا اور پابندیوں کی پروا کیے بغیر جلسوں میں شرکت اور کلام سنانا جاری رکھا۔
ان کی ظرافت مشہور تھی، مگر ان کی نعت میں جو سوز وگداز تھاوہ اس سےبالکل مختلف کیفیت رکھتا تھا۔ نعت پڑھتے ہوئے آواز بھر آتی، آنکھیں نم ہوجاتیں اور محسوس ہوتا کہ یہ محض ادائیگی نہیں بلکہ دل کی آواز ہے۔ یہی کیفیت ان کی عام گفتگو میں بھی جھلکتی تھی کہ لفظوں سے زیادہ احساس بولتا تھا۔
تعلیم کے بعد وہ واپڈا میں ملازم رہے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے، مگر ملازمت کے پورے عرصے میں انہوں نے علما جیسی وضع قطع اور سادہ طرزِ زندگی برقرار رکھا،داڑھی، ٹوپی اور وہی سادہ لباس۔ اس ماحول میں بغیر کسی رسمی نسبت کے اس طرز کو قائم رکھنا معمولی بات نہیں بلکہ استقامت اورخاندانی تربیت کااثر تھا
آپ کے والد محترم حضرت سیدامین گیلانی مرحوم مجلس احرار ،جمعیت علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے اپنے انقلابی اشعار کے ذریعے لوگوں کے جذبات کو گرمایا کرتے تھے۔ وہی فکری ورثہ سید سلمان گیلانی نے سنبھالا اور پوری دیانت کے ساتھ نبھایا۔ وہ اپنے والد کے حقیقی معنوں میں جانشین ثابت ہوئے۔
آج ان کی وفات پر جو عمومی اتفاق نظر آیا وہ یہ تھا کہ وہ ایک بڑے انسان تھے ،یہ متفقہ موقف کسی مہم یا تعارف کا نتیجہ نہیں بلکہ درحقیقت سیدسلمان گیلانی کے خلوص کا اعتراف ہے۔ انہوں نے لوگوں کے دل جیتے، اور دلوں میں جگہ بنائی۔ اسی لیے ہر شخص کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کے اپنے تھے۔
وہ اب ہم میں نہیں رہے، مگر ان کی مسکراہٹ، ان کی اپنائیت، ان کا اخلاص اور ان کا اندازِ محبت یادوں میں زندہ رہے گا۔ کچھ لوگ اپنی تحریروں سے زندہ رہتے ہیں، کچھ تقریروں سے اور کچھ اپنے اخلاق سے زندہ رہتے ہیں۔سید سلمان گیلانی رحمہ اللہ کا شمار یقیناً اسی آخری قبیل میں ہوتا ہے۔
