وَالْعَصْرِ ۞ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۞ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
اسلام سب سے پہلے عقیدہ توحید کی تعلیم دیتا ہے۔ پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر عمل میں آیا ہے۔ اس لیے سب سے پہلی ذمہ داری پاکستان کی یہ ہے کہ وہ اپنی حدود میں مکمل اسلامی نظام قائم کر کے پوری دنیا میں قرآن کے فرمودہ انسانی منشور کے قیام کی راہ ہموار کرے۔
1969
منشور کا آغاز ستمبر
22
اسلامی نکات
31
دستخط کرنے والے علماء
4
صوبے شریک
2011
آخری نظرثانی
نظام حکومت
- 1سرکاری مذہب مملکت کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا۔
- 222 اسلامی نکات تمام فرقوں کے نمائندہ جید علماء کے مرتب کردہ 22 اسلامی نکات کی روشنی میں ملک کے دستور کو مکمل اسلامی بنایا جائے گا۔
- 3قرآن و سنت کے قوانین صرف قرآن و سنت کے احکام ہی ملک کے اساسی قوانین قرار پائیں گے۔
- 4دستور کا تحفظ ملک کے دستور اور قانون میں اسلام کے کامل و مکمل دین ہونے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا دستوری و قانونی تحفظ کیا جائے گا۔
- 5معیار حکومت خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ادوار حکومت کو اسلامی نظام حکومت کے جزئیات متعین کرنے کے لیے معیار قرار دیا جائے۔
- 6کلیدی اسامیاں ملک کی کلیدی اسامیاں غیر مسلموں کے لیے ممنوع قرار دی جائیں گی۔
- 7صدر و وزیر اعظم کے لیے اسلامی شرائط صدر مملکت اور وزیر اعظم کا مسلمان مرد ہونا اور پاکستان کی غالب اکثریت اہل سنت کا ہم مسلک ہونا ضروری ہو گا۔
- 8مسلمان کی تعریف مسلمان کی قانونی تعریف یہ ہو گی کہ وہ قرآن و حدیث پر ایمان رکھتا ہوئے ان کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اسلاف رحمہم اللہ اجمعین کی تشریحات کی روشنی میں حجت سمجھے۔
- 9غیر اسلامی فرقے جو فرقے اسلام کے کسی بنیادی عقیدہ ختم نبوت وغیرہ سے انحراف کے مرتکب ہو چکے ہیں انہیں غیر اسلامی فرقے قرار دیا جائے گا۔
- 14انتخابی طریق — جماعتی پاکستان کی مجالس شوریٰ (اسمبلیوں) وغیرہ میں نمائندگی کے لیے انتخابات کا نظام شخصی مقابلہ کی بجائے جماعتی مقابلہ پر قائم کیا جائے گا۔
نظام شرعی کا قیام
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ
وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو زمین پر حکومت عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے زکوٰۃ دیں گے نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے
- الفپابندی نماز ملک میں مسلمان عوام سے نماز باجماعت کی پابندی کرائے گا۔ بلا عذر شرعی قصداً نماز ترک کر دینے والوں کو شرعی سزائیں دے گا۔
- بزکوٰۃ کی وصولی ہر صاحب نصاب مالدار کے مال سے مقررہ مقدار زکوٰۃ اور پیداوار میں سے عشر و نصف عشر نکالنے اور اسے مقررہ مصارف زکوٰۃ میں صرف کرنے کی نگرانی کرے گا۔
- جشعائر اسلامی کی پابندی تمام عبادات، احکام و شعائر اسلامی کی پابندی کرائے گا۔
- مشرعی سزائیں زنا، چوری، رہزنی اور شراب خوری پر شرعی سزائیں — حد زنا، حد سرقہ، حد رہزنی اور حد خمر و قذف وغیرہ جاری کرے گا۔
- زاسلامی اخلاق کا تحفظ قانونی سطح پر ملک سے فحاشی، عریانی، بے حیائی اور ثقافت کے نام پر کیے جانے والے رقص و سرور وغیرہ کی محافل کو قابل سزا جرم قرار دے گا۔
تعلیم
- 1نظام تعلیم نظام تعلیم مکمل اسلامی ہو گا۔
- 2تعلیم کی بنیاد تعلیم کی بنیاد اسلام پر اور اسلام کی تاریخ اور مادری زبان کی اساس پر رکھی جائے گی۔
- 3حصول تعلیم — بالکل مفت دسویں (میٹرک) جماعت تک تعلیم بالکل مفت ہو گی۔ اور بتدریج دس سال کے اندر تمام درجات میں مفت تعلیم کر دینے کی کوشش کی جائے گی۔
- 6تعلیم بالغاں ان پڑھ بالغاں کی تعلیم کا بھی وسیع پیمانہ پر ایسا انتظام کیا جائے گا کہ 5 سال کے اندر کم از کم ملک کی 4/1 بالغ آبادی بنیادی تعلیم سے بہرہ ور ہو جائے گی۔
- 12دینی تعلیمی ادارے دینی مدارس کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی ترقی میں زیادہ سے زیادہ مدد دی جائے گی۔ ان کی اسناد سرکاری درسگاہوں کی اسناد کے برابر شمار ہوں گی۔
- 19مخلوط تعلیم کی ممانعت مخلوط تعلیم کو ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔
- 22عربی زبان کی تعلیم عربی زبان کو تعلیمی اداروں میں لازمی زبان کا مقام حاصل ہو گا۔
- 26ذریعہ تعلیم ملکی سطح پر ذریعہ تعلیم اردو ہو گا۔
صحت
- 1حفظان صحت اور علاج ملک میں اعلیٰ پیمانہ پر حفظان صحت اور علاج کا ایک وسیع ترین ادارہ تشکیل دیا جائے گا۔ دیہات کی کسان آبادیوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور شہر کے غریبوں کا خاص خیال رکھا جائے گا۔
- 4علاج کی سہولت بلامعاوضہ علاج کی تمام سہولت بلا معاوضہ ایہام کی جائیں گی۔
- 8یونانی، ہومیوپیتھک اور آیورویدک طریقہ ہائے علاج ملک میں دیسی یونانی، ہومیوپیتھک اور آیورویدک طب کو فروغ دیا جائے گا۔
معاش
- 1حصول معاش کے مواقع پاکستان کے ہر شہری کو حصول معاش (روزگار) کے باعزت مواقع ایہام کیے جائیں گے۔
- 2بے زمین کسانوں کے لیے معاش دیہات میں کاشت کا کام کرنے والے بے زمین افراد کو ایک کنبہ (فیملی) کی باسہولت گزارا اوقات کے لیے بسبق گزارہ زرعی کا قطعہ مفت دیا جائے گا۔
- 8بے روزگاری کا کلیتہ خاتمہ غرضیکہ دیہات اور شہروں سے بے روزگاری کا کلیتہ “خاتمہ” کردیا جائے گا۔
- 10محروم افراد کی معاش معذور ہو جانے والے افراد، سرپرست کے فوت ہو جانے سے یتیم، بیوہ اور بے سہارا رہ جانے والے افراد کے گزارہ کا فوری معقول انتظام کیا جائے گا۔
مالیات و اقتصادیات
لَا يَكُوْنَ دُوْلَةً بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ
اغنیاء کے درمیان دولت (محصور) نہ رہنے پائے۔
- 2ناجائز ذرائع کا خاتمہ سودی کاروبار، سٹہ بازی، بینک کاری اور انشورینس جیسے کاروبار — ان کو شکن کر کے یا ان کی شرعی احکام کے مطابق اصلاح کرکے ملکی دولت کو ملک بھر کے عوام میں دائرہ و سارے رکھنے کے وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
- 3سود اور سودی کاروبار کی ممانعت سودی کاروبار اور سودی لین دین کی ہر شکل کو ہر شبہ سے بالکل خارج کر دیا جائے گا اور آئندہ کے لیے سودی کاروبار ممنوع اور سخت سزا کا موجب قرار دیا جائے گا۔
- 6ملک کے قدرتی وسائل عوام کی ملکیت ملک کے قدرتی وسائل معیشت، معدنیات، گیس، پانی، جنگلات، تیل وغیرہ کسی ایک فرد خاندان یا ادارہ کی ملکیت و اجارہ داری میں نہیں جانے دیے جائیں گے۔ وہ شریعت کی رو سے حکومت کی ملکیت ہوں گے۔
زراعت
مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ ، وَلَيْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ
“جس نے بھی بے آباد زمین کو آباد کیا وہ اس کے لیے ہے اور جابر ظالم کا اس میں کوئی حق نہیں”
- 3ناجائز طور پر حاصل کردہ زمینوں کی واپسی سیاسی رشوت کے طور پر، دھوکہ اور فریب کے ذریعہ، جبر اور ناجائز طور پر جو زمینیں و جاگیریں حاصل کی گئی ہیں وہ بغیر معاوضہ واپس لے لی جائیں گی اور اس علاقے کے مستحق کاشتکاروں میں تقسیم کر دی جائیں گی۔
- 13زرعی پیداوار کی فروخت میں کاشتکاروں کا حق زرعی پیداوار اور اس کی فروخت کا ایسا انتظام کیا جائے گا کہ اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ آڑھتیوں، سٹاک ہولڈروں، اسٹاک ایکسچینجوں، بینکوں، سٹہ بازوں، دلالوں وغیرہ کی جیب میں جانے کی بجائے کاشتکاروں اور کھیت مزدوروں کو پہنچے۔
عدلیہ کا نظام
- 1آزاد عدلیہعدلیہ مکمل طور پر انتظامیہ سے آزاد ہو گی۔
- 2آسان ترین حصول انصافحصول انصاف کے طریقے بالکل آسان بنائے جائیں گے۔
- 3مفت انصافعدالتوں سے انصاف کا حصول مفت ہو گا۔
- 5قوانین اسلامیملک کے دیوانی و فوجداری قوانین میں شریعت کے مطابق تبدیلیاں کی جائیں گی۔
انتظامیہ
- 2انتظامیہ کی حیثیتانتظامیہ کے ادنیٰ و اعلیٰ سب ہی ارکان کی حیثیت ملک و ملت کے خادم و نگہبان کی ہو گی۔
- 5حسن سلوک کی شرطعوام کی حاجت مند افراد کے ساتھ حسن سلوک انتظامیہ کا اولین اصول ہو گا۔
- 7بدعنوانی اور رشوت پر سخت گرفترشوت اور بدعنوانی کے ارتکاب پر برطرفی کے علاوہ سخت ترین سزا دی جائے گی۔
خارجہ پالیسی
- 1آزاد و غیر جانبداراسلامی عظمت کے اظہار پر مبنی آزادانہ و غیر جانبدارانہ ہو گی۔
- 3مسلمان ملکوں سے اشتراکمسلمان ملکوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اشتراک پر مبنی ہو گی۔
- 6جدوجہد آزادی کی حمایتمحکوم ملکوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت و معاونت کی جائے گی۔
- 9اہم معاملاتفلسطین، بیت المقدس اور تمام عرب علاقوں سے یہودی، امریکی اور برطانوی سامراجی تسلط کے خاتمہ، افغانستان میں غیر ملکی جارحیت کے خاتمہ، کشمیر کی آزادی، بھارت کے مسلمانوں کی جان و مال، آبرو، دین، معاش، رہائش وغیرہ کے تحفظ کی کوشش کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اولین و بنیادی اہمیت حاصل ہو گی۔
دفاع
- 1جہاد کی تربیتہر بالغ مسلمان کو جہاد کی تربیت دی جائے گی۔
- 3ملک کا دفاعملک کو دفاع میں خود کفیل بنایا جائے گا۔
- 8اسلامی احکامات پر عملفوجی تربیت میں اسلامی احکام پر عمل کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی اور عسکری قوانین شرعی ہوں گے۔
- 10لائسنس پر پابندی کا خاتمہاسلحہ لائسنس پر پابندی ختم کی جائے گی، اس کا اندراج ڈاکخانہ میں کیا جائے گا۔
22 اسلامی نکات
درج ذیل نکات وہ ہیں جنہیں 1952ء میں پاکستان کے جید علماء اور تمام مسلم فرقوں کے نمائندگان نے مرتب کرکے دستور پاکستان کی اساس بنانے کیلیے پیش کیا تھا۔
جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے منشور میں بھی ان نکات کو شامل کیا ہے۔
جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے منشور میں بھی ان نکات کو شامل کیا ہے۔
1
حاکمیت اعلیٰ
اصل حاکم تشریعی و تکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔
2
قرآن و سنت کی بالادستی
ملک کا قانون کتاب و سنت پر مبنی ہو گا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جائے گا، نہ ایسا حکم دیا جائے گا جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
3
اسلام کی بنیاد
مملکت کسی جغرافیائی، نسلی، لسانی یا کسی اور تصور پر نہیں، بلکہ ان اصول و مقاصد پر مبنی ہو گی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطہ حیات ہے۔
4
اسلامی فرائض
اسلامی مملکت کا یہ فرض ہو گا کہ کتاب و سنت کے بتائے ہوئے معروضات کو قائم کرے، منکرات کو مٹائے اور شعائر اسلام کے احیاء کا انتظام کرے۔
5
اتحاد امت
اسلامی مملکت کا یہ فرض ہو گا کہ وہ مسلمانان عالم کے رشتہ اتحاد و اخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ملت اسلامیہ کی وحدت کے حفظ و استحکام کا انتظام کرے۔
6
بنیادی ضروریات کی کفالت
مملکت لاحق ذمہ لینے وریغہ تمام ایسے لوگوں جو اکتساب رزق کے قابل نہ ہوں کی لابدی انسانی ضروریات یعنی غذا، لباس، مسکن، معالجہ اور قیام کی کفیل ہو گی۔
7
شہری حقوق
باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں — حفاظت جان و مال و آبرو، آزادی ذمہ مسلک، آزادی عبادت، آزادی ذات۔
8
قانونی تحفظ
مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہر کا کوئی حق اسلامی قانون کی سند جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جائے گا۔
9
مسلم فرقوں کی آزادی
مملکہ اسلامی فرقوں کو حدود قانون کے اندر پوری ذمہبی آزادی حاصل ہو گی۔ انہیں اپنے پیروؤں کو اپنے ذمہ کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہو گا۔
10
غیر مسلم باشندوں کے حقوق
غیر مسلم باشندگان مملکت کو حدود قانون کے اندر ذمہ و عبادت، ذہبی و ثقافت اور ذمہبی تعلیم کی پوری آزادی ہو گی۔
11
معاہدات کی پابندی
غیر مسلم باشندگان مملکت سے حدود شریعت کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہیں ان کی پابندی لازمی ہو گی۔
12
رئیس مملکت
رئیس مملکت کا مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے دیانت، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔
13
نظم حکومت
رئیس مملکت ہی نظم مملکت کا اصل ذمہ دار ہو گا، البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جزو کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔
14
شوراری حکومت
رئیس مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں، بلکہ شورائی ہو گی یعنی وہ ارکان حکومت اور منتخب نمائندگان جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض سر انجام دے گا۔
15
دستور کا تحفظ
رئیس مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہو گا کہ وہ دستور کو کلاً یا جزوًا معطل کر کے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
16
عزل کا اختیار
جو جماعت رئیس مملکت کے انتخاب کی مجاز ہو گی، وہ اکثریت آراء سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہو گی۔
17
مساوی شہری حقوق
رئیس مملکت شہری حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہو گا اور قانونی مواخذہ سے بالاتر نہ ہو گا۔
19
آزاد عدلیہ
محکمہ عدلیہ، محکمہ انتظامیہ سے جداگانہ اور آزاد ہو گا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئت انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
21
ملکی اتحاد
ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکت واحدہ کے انتظامی اجزاء متصور ہوں گے، ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی واحدہ جات کی نہیں، بلکہ انتظامی علاقوں کی ہو گی۔
22
تعبیر دستور
دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہو گی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
22 نکات پر دستخط کرنے والے اسلام گرامی
12/13/14/15 ربیع الثانی 1370ھ مطابق 21/22/23/24 جنوری 1951ء کو کراچی میں مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم کی زیر صدارت ان 22 نکات پر اتفاق ہوا تھا۔
1
مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم
2
مولانا شمس الحق افغانی مرحوم
3
مولانا بدر عالم صاحب مرحوم
4
مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی مرحوم
5
مولانا عبد الحامد صاحب قادری بدایونی مرحوم
6
مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کراچی مرحوم
7
مولانا محمد ادریس کاندھلوی مرحوم
8
مولانا خیر محمد صاحب مرحوم ملتان
9
مولانا مفتی محمد حسن صاحب جامعہ اشرفیہ لاہور
10
پیر امین الحسنات صاحب ماکیڑی شریف
11
مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم کراچی
12
حاجی خادم الاسلام صاحب (خلیفہ حاجی ترنگزئی)
13
قاضی عبدالصمد صاحب سربازی (بلوچستان)
14
مولانا اطہر علی مرحوم (مشرقی پاکستان)
15
مفتی جعفر حسین مرحوم مجتہد (شیعہ حضرات میں سے)
16
مولانا محمد اسمٰعیل صاحب مرحوم گوجرانوالہ (اہل حدیث)
17
سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی مرحوم
18
محمد ظفر احمد صاحب انصاری مرحوم
