علمائے حق کی صدیوں پر محیط جدوجہد — حضرت مجدد الف ثانیؒ سے مولانا فضل الرحمٰن تک
برطانوی ہند میں علمائے کرام نے جمعیت علمائے ہند کے نام سے تحریک قائم کی۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ نے انقلابی جدوجہد کا وسیع ترین نظام قائم کیا اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے علمی قیادت سنبھالی۔
پاکستان کے قیام کے بعد شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے پاکستان کو اسلامی مملکت بنانے کی خاطر تمام علمائے حق کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی جدوجہد فرمائی۔
1953ء میں جمعیت علمائے اسلام مغربی پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ امیر اور مولانا احتشام الحق تھانویؒ ناظم منتخب ہوئے۔
1956ء کے دستور میں تمہید میں پاکستان کو اسلامی مملکت تسلیم کیا گیا۔ جمعیت نے دستور کی مخالفِ اسلام دفعات کو تبدیل کرانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی اور 1958ء میں دستوری ترمیم کی تجاویز مرتب کیں۔
اکتوبر 1958ء میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ ایوب خان نے عائلی قوانین نافذ کرکے مداخلت فی الدین کا اقدام کیا۔ نظام العلماء کے نام سے منسلک علماء نے مساجد اور جلسوں میں بھرپور آواز بلند کی۔
مئی 1967ء میں لاہور میں کل پاکستان جمعیت علمائے اسلام کا مرکزی انتخاب عمل میں آیا۔ حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ امیر اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ ناظم عمومی منتخب ہوئے۔
یحییٰ خان کے دور میں 7 دسمبر 1970ء میں عام انتخابات ہوئے۔ جمعیت علمائے اسلام نے مغربی پاکستان میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ قائد جمعیت حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے ڈھاکہ میں قومی اسمبلی اجلاس کے التواء کی شدید مخالفت کی۔
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) میں جمعیت اور NAP کی اکثریت تھی۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ وزیرِ اعلیٰ بنے اور جمعیت کے منشور پر فوری عملدرآمد شروع کیا۔
1974ء میں ختمِ نبوت کی تحریک چلی۔ قومی اسمبلی کے محاذ پر حضرت مولانا مفتی محمودؒ قافلئہ سالار تھے تو باہر جمعیت کے کارکنوں کا سب سے فعال کردار رہا۔
9 سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان قومی اتحاد کی قیادت حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو سونپی گئی۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریکِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ نے جنم لیا — عوام کے جذبہ نے اسے اسلامی تحریک کا نام دے دیا۔
جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی میں ایک علمی مجلس میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
2002ء کے انتخابات میں جمعیت نے متحدہ مجلسِ عمل (MMA) کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور قومی اسمبلی کی 27 نشستیں حاصل کیں۔ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئے۔ صوبہ سرحد میں MMA حکومت قائم ہوئی اور محمد اکرم خان درانی وزیرِ اعلیٰ بنے۔
2008ء کے انتخابات میں جمعیت نے تنہا حصہ لیا۔ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد دلائل سے مزین خطاب فرمایا۔
مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام (ف) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کا حصہ بنی اور مولانا صاحب PDM کے صدر منتخب ہوئے — پاکستان میں جمہوریت اور اسلامی نظام کے لیے جدوجہد جاری ہے۔
قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا — پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی آئینی فتح
آرٹیکل 2 (اسلام سرکاری مذہب)، آرٹیکل 227 (قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی) کا نفاذ — جمعیت کی محنت کا ثمر
MMA کے پلیٹ فارم سے KPK میں تاریخی حکومت — مفت تعلیم، خواتین یونیورسٹیاں، اسلامی اصلاحات
مولانا فضل الرحمٰن کے تاریخی پارلیمانی خطاب کے نتیجے میں پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کا متفقہ فیصلہ
ملک بھر میں ہزاروں مدارس کا قیام، لاکھوں طلبہ کو مفت دینی تعلیم اور حفظِ قرآن کی سہولت
آئین سے “اسلامی جمہوریہ” نام، قراردادِ مقاصد اور ناموسِ رسالت ﷺ قانون ہٹانے کی سازش ناکام بنائی
صدیوں کی یہ عظیم جدوجہد آج بھی جاری ہے — آئیں اور اسلامی پاکستان کے خواب کو پورا کرنے میں ہمارا ساتھ دیں