تاریخِ جمعیت علمائے اسلام
جمعیت علمائے اسلام پاکستان (ف)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
قیام: 1919ء  |  SINCE 1919

ایک تاریخی تسلسل

علمائے حق کی صدیوں پر محیط جدوجہد — حضرت مجدد الف ثانیؒ سے مولانا فضل الرحمٰن تک

1919جمعیت علمائے ہند
1945الگ قیام
1953مغربی پاکستان
1967کل پاکستان
2002MMA حکومت

جمعیت علمائے اسلام — ایک تاریخی تسلسل

جمعیت علمائے اسلام تاریخی حقائق کی روشنی میں علمائے حق کے اس سلسلہ کی کڑی ہے جس کا آغاز حضرت مجدد الف ثانیؒ کی مساعی سے ہوا، جس نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و نظریات سے نشونما پائی اور جس کی جہادی تنظیم کی سرپرستی شاہ عبد العزیز دہلویؒ، حضرت سید احمد شہیدؒ اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ جیسے اکابر نے فرمائی۔

🌿 ابتدائی دور — بنیاد و قیام
🕌
1919ء
جمعیت علمائے ہند — آغازِ تحریک

برطانوی ہند میں علمائے کرام نے جمعیت علمائے ہند کے نام سے تحریک قائم کی۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ نے انقلابی جدوجہد کا وسیع ترین نظام قائم کیا اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے علمی قیادت سنبھالی۔

ان بزرگوں کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کی بدولت ملک و ملت کو برطانوی استعمار کے جابرانہ غلبہ سے نجات ملی۔
🏴 آزادی کی جدوجہد 📖 علمی تحریک 🤝 اتحادِ علماء
1947ء
آزادی اور قیامِ پاکستان

پاکستان کے قیام کے بعد شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے پاکستان کو اسلامی مملکت بنانے کی خاطر تمام علمائے حق کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی جدوجہد فرمائی۔

🌙 قیامِ پاکستان 📜 اسلامی مملکت کا خواب
🌙
⚖️
1953ء
جمعیت علمائے اسلام مغربی پاکستان — باقاعدہ قیام

1953ء میں جمعیت علمائے اسلام مغربی پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ امیر اور مولانا احتشام الحق تھانویؒ ناظم منتخب ہوئے۔

اسی سال پاکستان کی پہلی اور اہم ترین دینی تحریک “تحفظِ ختمِ نبوت” شروع ہوئی جس میں مسلمانوں نے بیش بہا قربانیاں دے کر لادینی ذہنیت کو شکستِ فاش دی۔
✅ تحفظِ ختمِ نبوت 🏛️ باقاعدہ تنظیم
📜 دستوری دور — 1956ء تا 1967ء
1956ء
دستورِ پاکستان — اسلامی دفعات کا تحفظ

1956ء کے دستور میں تمہید میں پاکستان کو اسلامی مملکت تسلیم کیا گیا۔ جمعیت نے دستور کی مخالفِ اسلام دفعات کو تبدیل کرانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی اور 1958ء میں دستوری ترمیم کی تجاویز مرتب کیں۔

📜 دستوری جدوجہد ⚖️ اسلامی قانون
📜
🛡️
1958ء
مارشل لاء — ایوب خان کی آمریت کے خلاف مزاحمت

اکتوبر 1958ء میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔ ایوب خان نے عائلی قوانین نافذ کرکے مداخلت فی الدین کا اقدام کیا۔ نظام العلماء کے نام سے منسلک علماء نے مساجد اور جلسوں میں بھرپور آواز بلند کی۔

علماء نے حکومت کی دار و گیر کا ہدف بنتے ہوئے بھی دین کے لیے آواز بلند کرنا نہ چھوڑا۔
🛡️ دینی مزاحمت 🕌 مساجد سے آواز
مئی 1967ء
لاہور کی تاریخی کانفرنس — کل پاکستان جمعیت

مئی 1967ء میں لاہور میں کل پاکستان جمعیت علمائے اسلام کا مرکزی انتخاب عمل میں آیا۔ حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ امیر اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ ناظم عمومی منتخب ہوئے۔

روزنامہ جنگ کراچی نے لکھا کہ برصغیر میں علماء کا اتنا بڑا جلوس کبھی نہیں نکلا — لاکھوں علماء و مشائخ نے شرکت کی۔
🌟 تاریخی کانفرنس 🇵🇰 کل پاکستان اتحاد 👥 لاکھوں علماء
🌟
🏛️ سیاسی عروج — 1970ء تا 1980ء
🗳️
1970ء
پہلے عام انتخابات — مغربی پاکستان میں دوسری پوزیشن

یحییٰ خان کے دور میں 7 دسمبر 1970ء میں عام انتخابات ہوئے۔ جمعیت علمائے اسلام نے مغربی پاکستان میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ قائد جمعیت حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے ڈھاکہ میں قومی اسمبلی اجلاس کے التواء کی شدید مخالفت کی۔

✅ دوسری پوزیشن 🗳️ عوامی نمائندگی
1972ء
مولانا مفتی محمودؒ — وزیرِ اعلیٰ سرحد

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) میں جمعیت اور NAP کی اکثریت تھی۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ وزیرِ اعلیٰ بنے اور جمعیت کے منشور پر فوری عملدرآمد شروع کیا۔

شراب پر پابندی، سرکاری زبان اردو، ہفتہ وار تعطیل جمعہ — اسلامی اقدامات کا فوری نفاذ کیا۔ بلوچستان حکومت کی برطرفی پر احتجاجاً استعفیٰ دیا — پاکستانی تاریخ میں بے مثال اقدام۔
🏛️ وزارتِ اعلیٰ ✅ اسلامی اقدامات 💪 اصولی استعفیٰ
🏛️
1974ء
تحریکِ ختمِ نبوت — تاریخی کامیابی

1974ء میں ختمِ نبوت کی تحریک چلی۔ قومی اسمبلی کے محاذ پر حضرت مولانا مفتی محمودؒ قافلئہ سالار تھے تو باہر جمعیت کے کارکنوں کا سب سے فعال کردار رہا۔

الحمداللہ — قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ پاکستانی تاریخ کی عظیم آئینی فتح!
☪ ناموسِ رسالت ﷺ ✅ تاریخی آئینی فتح 🏛️ قومی اسمبلی
1977ء
پاکستان قومی اتحاد — تحریکِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ

9 سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان قومی اتحاد کی قیادت حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو سونپی گئی۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریکِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ نے جنم لیا — عوام کے جذبہ نے اسے اسلامی تحریک کا نام دے دیا۔

🌟 9 جماعتی اتحاد ✊ نظامِ مصطفیٰ ﷺ 👥 عوامی تحریک
🌹
14 اکتوبر 1980ء
وفاتِ مفتی محمودؒ — عظیم قائد کا انتقال

جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی میں ایک علمی مجلس میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن — جمعیت کا عظیم ترین قائد پردہ فرما گیا جن کی ساری زندگی اسلام کی خدمت میں گزری۔
🌹 مفکرِ اسلام 📖 فقیہِ ملت
🌟 جدید دور — مولانا فضل الرحمٰن
2002ء
MMA — متحدہ مجلسِ عمل — تاریخی انتخابی فتح

2002ء کے انتخابات میں جمعیت نے متحدہ مجلسِ عمل (MMA) کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اور قومی اسمبلی کی 27 نشستیں حاصل کیں۔ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئے۔ صوبہ سرحد میں MMA حکومت قائم ہوئی اور محمد اکرم خان درانی وزیرِ اعلیٰ بنے۔

حکومت نے امن و امان، مفت تعلیم (خواتین یونیورسٹیاں، میڈیکل کالج) اور صحت میں انقلابی اقدامات کیے جن کی مثال 65 سالوں میں نہ ملتی تھی۔
🏛️ 27 قومی نشستیں ✅ KPK حکومت 👨‍💼 اپوزیشن لیڈر
🏆
🗣️
2008ء
پارلیمنٹ میں آزاد خارجہ پالیسی — تاریخی خطاب

2008ء کے انتخابات میں جمعیت نے تنہا حصہ لیا۔ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد دلائل سے مزین خطاب فرمایا۔

اس موقع پر اراکینِ پارلیمنٹ کی اکثریت کی آنکھیں پرنم تھیں۔ پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر آزاد خارجہ پالیسی کا فیصلہ کیا۔
🌍 آزاد خارجہ پالیسی 📜 آئینی اصلاحات 🛡️ اسلامی دفعات کا تحفظ
2018ء — تاحال
PDM — پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت

مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام (ف) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کا حصہ بنی اور مولانا صاحب PDM کے صدر منتخب ہوئے — پاکستان میں جمہوریت اور اسلامی نظام کے لیے جدوجہد جاری ہے۔

جمعیت علمائے اسلام خدا کی دھرتی پر خدا کے نظام کے لیے آج بھی مصروفِ عمل ہے۔
🌟 PDM صدر 🇵🇰 قومی قیادت ✊ جاری جدوجہد
🌟
قیادت کا سلسلہ

جمعیت کے عظیم قائدین

🌟
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ
شیخ الاسلام پاکستان
🌟
مولانا احمد علی لاہوریؒ
شیخ التفسیر — پہلے امیر
🌟
مولانا عبداللہ درخواستیؒ
حافظ الحدیث
🌟
مولانا مفتی محمودؒ
فقیہِ ملت — وزیرِ اعلیٰ
🌟
مولانا غلام غوث ہزارویؒ
مجاہدِ ملت
🌟
مولانا عبدالغفور حیدریؒ
سابق چیئرمین سینیٹ
مولانا فضل الرحمٰن
موجودہ امیر — PDM صدر
📖
مولانا اسد محمود
سیکریٹری جنرل
اہم کارنامے

جمعیت کی تاریخی خدمات

تحفظِ ختمِ نبوت 1974ء

قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا — پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی آئینی فتح

📜

آئینِ 1973ء میں اسلامی دفعات

آرٹیکل 2 (اسلام سرکاری مذہب)، آرٹیکل 227 (قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی) کا نفاذ — جمعیت کی محنت کا ثمر

🏛️

KPK حکومت 2002ء

MMA کے پلیٹ فارم سے KPK میں تاریخی حکومت — مفت تعلیم، خواتین یونیورسٹیاں، اسلامی اصلاحات

🌍

آزاد خارجہ پالیسی 2008ء

مولانا فضل الرحمٰن کے تاریخی پارلیمانی خطاب کے نتیجے میں پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کا متفقہ فیصلہ

🏫

دینی تعلیم کا فروغ

ملک بھر میں ہزاروں مدارس کا قیام، لاکھوں طلبہ کو مفت دینی تعلیم اور حفظِ قرآن کی سہولت

🛡️

سیکولرازم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے

آئین سے “اسلامی جمہوریہ” نام، قراردادِ مقاصد اور ناموسِ رسالت ﷺ قانون ہٹانے کی سازش ناکام بنائی

جمعیت علمائے اسلام (ف)

اس تاریخی تحریک کا حصہ بنیں

صدیوں کی یہ عظیم جدوجہد آج بھی جاری ہے — آئیں اور اسلامی پاکستان کے خواب کو پورا کرنے میں ہمارا ساتھ دیں