پاکستان کی عظیم دینی و سیاسی تحریک — علمائے دین کی قیادت میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے کوشاں
جمعیت علمائے اسلام پاکستان (ف) ایک عظیم دینی و سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد برصغیر کے جید علمائے کرام نے رکھی۔ قیامِ پاکستان سے قبل جمعیت علمائے ہند کے نام سے یہ تحریک 1919ء میں قائم ہوئی۔ پاکستان بننے کے بعد اس نے یہاں جمعیت علمائے اسلام کے نام سے از سر نو تنظیم کی۔
1956ء میں جمعیت علمائے اسلام باقاعدہ طور پر پاکستان میں رجسٹرڈ ہوئی۔ بعد ازاں تنظیمی اختلافات کے باعث جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوئی — جمعیت (ف) بنام مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت (س) بنام مولانا سمیع الحق۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کا بنیادی عقیدہ کلمہ توحید ہے۔ جماعت اہلِ سنت والجماعت کے دیوبندی مسلک سے وابستہ ہے اور دارالعلوم دیوبند کی فکری و علمی روایت کی پیروکار ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے بنیادی مقاصد قرآن و سنت کی روشنی میں طے کیے گئے ہیں:
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ملک بھر میں دینی تعلیم اور اسلامی خدمات کے میدان میں گراں قدر کارنامے انجام دیے ہیں:
جمعیت علمائے اسلام (ف) اس نظریے کی حامل ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور مذہب کو سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت نے ہر دورِ حکومت میں فعال سیاسی کردار ادا کیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کا تنظیمی ڈھانچہ یونین کونسل سے لے کر مرکز تک منظم اور مضبوط ہے:
جمعیت علمائے اسلام (ف) کو عظیم علمائے کرام اور دینی شخصیات کی قیادت نصیب رہی ہے:
جمعیت علمائے اسلام (ف) تمام مسلمانوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ قرآن و سنت کی طرف لوٹیں اور پاکستان کو حقیقی اسلامی ریاست بنانے کی جدوجہد میں شامل ہوں۔