مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا پشاور میں عوامی اسمبلی ملین مارچ سے خطاب

جناب اسپیکر، عوامی اسمبلی کے معزز اراکین، میرے بزرگو، دوستو اور بھائیو! مجھے یاد ہے کئی سال قبل ہم اسی مقام پر اکٹھے ہوئے تھے لیکن آج اسی مقام پر جب آپ کی تعداد کو دیکھتا ہوں وہ بھی اس ملین مارچ سے بہت زیادہ، جو میں آپ کے جوش اور جذبے کو دیکھتا ہوں تو وہ بھی اس جذبے اور ولولے سے زیادہ اور آپ نے ایک بار پھر پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالکوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ ہم اس ملک کے لیے آپ کی جعلی اسمبلیوں کو قبول نہیں کر رہے، ہم نے ایک بار پھر ان کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ آپ کی دھاندلیوں کی پیداوار حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہے، یہ حکومتیں یہ اسمبلیاں اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ تو ہو سکتی ہے لیکن اسے پاکستان کے عوام کا نمائندہ کہنا میرے نزدیک پاکستان کے عوام کی توہین ہے، ہم اپنی قوم کی توہین برداشت نہیں کر سکتے، آج ہم اپنی قوم اور اس ملک کے عوام کے عزت نفس کا مقدمہ لے کر میدان میں آئے ہیں، آج ہم اپنے عوام کے ووٹ کے حق کا مقدمہ لے کر میدان میں آئے ہیں اور مجھے ایک دو دن قبل افواج پاکستان کے ایک ترجمان کی پریس کانفرنس جو غالباً تین گھنٹوں پر محیط تھی اور کچھ پتہ نہیں چلا کہ تین گھنٹے میں اس نے کہا کیا، اتنی فصاحت و بلاغت کے ساتھ بات کر رہا ہے

میرے محترم دوستوں! پاکستان کے قیام میں تمہارا کوئی رول نہیں، پاکستان کو پاکستان کے ہندوستان کے مسلمانوں نے بنایا عوام نے بنایا قربانیاں دی اور ان قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان بنا ہے اور پاکستان کا جھنڈا تم نے نہیں لہرایا پاکستان کا جھنڈا ہم نے لہرایا ہے، پاکستان جب بنا ہے تو تمہارا کردار پاکستان کو توڑنے میں ہے پاکستان کو بنانے میں نہیں ہے، سن 1971 میں 90 ہزار سے زیادہ فوجی ایک ہندو کے سامنے سرنگوں ہوئے تمہارے کردار نے ہماری ناک کاٹ دی ہے، تمہارے کردار نے قوم کے سروں پر ذلت اور رسوائی کا ٹوکرا رکھا ہے، ہم بھی آپ کو جانتے ہیں اور آپ بھی ہمیں جانتے ہیں، تم اگر وردی پہن کر مجھ پر کوئی رعب ڈالنے کی کوشش کرتے ہو تو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم سارے مل کر بھی میرے جسم پر رو تک نہیں رینگتی، معاملات کو ٹھیک کرو ہم اس لیے آئے ہیں کہ آپ کو بتائیں

تمہارے فیصلے بھی تاریخ کے پہ رقم ہورہے ہیں اور تاریخ فیصلہ کرے گی کہ تم نے قوم سے غداری کی تھی، تم نے قوم کو بیٹھا تھا اس کے وفات کو بیچا تھا، اس کے مفاد جو بیچا تھا اور تاریخ لکھی گی کہ اس شخص نے اپنی قوم اور اپنے بچوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائی تھی، ہم بلا وجہ نہیں لڑا کرتے، ہمیں کسی سے لڑنے کا شوق نہیں ہے اور آپ جانتے ہیں ہم تقریروں میں گالیاں نہیں دیا کرتے، ہم تقریروں میں کسی کا مذاق نہیں اڑاتے لیکن ہم اپنا نقطہ نظر وضاحت سے پیش کرتے ہیں، ہم اپنا نقطہ نظر پیش کریں تب بھی تم ناراض وہ آپ کی مرضی۔

تبصرہ لکھیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *