قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام آزادی صحافت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب

میڈیا کے یہاں پر موجود قائدین، ذمہ داران، اور بالخصوص ہمارے بزرگ خاتون مہمان سے ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ سب سے پہلے تو میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے یہ اجتماع منعقد کیا اور اس مجھے اس میں شرکت کا اعزاز بخشا۔ پیکا قانون جب آیا، تو آپ کے یونین کی طرف سے صحافی حضرات کا ایک وفد مجھے ملا۔ چونکہ میں خود بھی میڈیا سے کچھ شاکی رہتا ہوں، تو میں نے ضرور یہ کوشش کی کہ میں اس قانون کو سمجھوں اور اگر اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں یا واقعتاً کچھ خامیوں کو ایڈریس کیا گیا ہے، اور اس کی اصلاح کی گئی ہے تو میں اس کی حمایت کروں اور اگر اس میں خامیاں ہیں اس میں قدغنیں ہیں، ناجائز قدغنیں ہیں، اور ایک جمہوری ملک میں جمہوری ماحول میں میڈیا کا گلا گھونٹا جا رہا ہے تو پھر میں واضح طور پر ایسے قانون سے اختلاف کروں۔ مجھے اس گفتگو کے نتیجے میں اس بات کا اطمینان ہوا کہ ماضی میں حکومتوں نے ڈکٹیٹرز نے آزادی رائے پر جب بھی ہاتھ ڈالا ہے وہ سب سے پہلے انہوں نے صحافت کا گلا گھومنے کی کوشش کی ہے۔

باقی تو ظاہر ہے سٹیج پہ بہت سے اکابرین موجود ہیں۔ بہت سے لوگوں نے باتیں کرنی ہیں۔ تفصیلی گفتگو کی شاید گنجائش نہ ہو، لیکن ایک بات ہمیں ضرور سمجھنی ہوگی کہ ہر ڈکٹیٹر نے آئین پر، جمہوریت پر، پارلیمنٹ پر شب خون مارا ہے، اور ابھی چند مہینے قبل 26 ویں ترمیم کے نام سے جو اس وقت شب خون مارا گیا ہم نے اس کا مقابلہ کیا، عدلیہ کو اپنی لونڈی بنانے کی کوشش کی گئی، ملٹری کورٹس بنا کر بنیادی انسانی حقوق کو سکیڑا گیا، اور آئین میں جو کچھ ایک بہت مختصر، محدود ایک استثنائیہ دیا گیا ہے اس استثنائیے کی پیٹ کو بڑھایا گیا۔ لیکن ہم نے اس مسودے کو مسترد کر دیا۔

تبصرہ لکھیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *