قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اسلام آباد میں تقریب کتاب رونمائی سے خطاب
حضرات علماء کرام، معززین کرام، میرے بھائیو، میری بہنوں! یہ تقریب بڑی مبارک تقریب ہے جس میں ہم ایک ایسی کتاب کی رونمائی کر رہے ہیں کہ جو کتاب ہماری ایک بہن کی داستان پر مشتمل ہے کہ کیسے اس نے قادیانیت سے اسلام کی طرف سفر کیا، اور خانوادہ کفر سے دائرہ اسلام میں آئی، شرف اسلام حاصل کرنے پر ہم سب دل کی گہرائیوں سے ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ان کی استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ ساری انسانیت کو اللہ رب العزت ہدایت کی طرف لائے، دین اسلام کی طرف لائے، کیونکہ یہی حق راستہ ہے، یہی سچ راستہ ہے، یہی آخری راستہ ہے، اور اس کے بعد کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
متعلقہ خبریں
پوری دنیا میں اور بالخصوص برصغیر میں قادیانیت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہے، جس کا اعتراف اپنی کتابوں میں مرزا غلام قادیانی نے خود کیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح اسرائیل برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہے۔ ایک مشنری تحریک کے طور پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک تحریک ہے، راہ حق سے ہٹانے کی ایک تحریک ہے۔ لیکن ہمارے اکابر، ہمارے اسلاف ان کو اللہ رب العزت کروڑوں رحمتوں سے نوازے جنہوں نے اس فتنے کا تعاقب کیا، اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ اس کی حقیقت دنیا پر واضح کی، انہیں غیر مسلم قرار دیا، اور برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علماء نے اس بات پر اجماع کیا کہ مرزا غلام ہو یا اس کے پیروکار وہ جس نبوت کا دعویٰ کرنے والے ہیں وہ جس نبوت کی پیروی کرنے والے ہیں وہ دائرہ اسلام میں نہیں رہ سکتے، نہ مسلمانوں کے قبیلے میں ان کا کوئی حق رہتا ہے۔ لیکن حد یہ ہے کہ آج دنیا میں جہاں بھی ہم جائیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، بلکہ کیا جاتا ہے کہ آپ قادیانیوں کو غیر مسلم کیوں کہہ رہے ہیں، ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم پوری امت مسلمہ کو غیر مسلم کیوں کہتے ہو، تم پوری امت مسلمہ کو کافر کیوں کہتے ہو۔
Toggle navigationقائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اسلام آباد میں تقریب کتاب رونمائی سے خطاب 12-02-2025قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اسلام آباد میں تقریب کتاب رونمائی سے خطاب12 فروری 2025الحمدلله رب العالمین والصلوۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء و المرسلین وعلی آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلی یوم الدینحضرات علماء کرام، معززین کرام، میرے بھائیو، میری بہنوں! یہ تقریب بڑی مبارک تقریب ہے جس میں ہم ایک ایسی کتاب کی رونمائی کر رہے ہیں کہ جو کتاب ہماری ایک بہن کی داستان پر مشتمل ہے کہ کیسے اس نے قادیانیت سے اسلام کی طرف سفر کیا، اور خانوادہ کفر سے دائرہ اسلام میں آئی، شرف اسلام حاصل کرنے پر ہم سب دل کی گہرائیوں سے ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ان کی استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ ساری انسانیت کو اللہ رب العزت ہدایت کی طرف لائے، دین اسلام کی طرف لائے، کیونکہ یہی حق راستہ ہے، یہی سچ راستہ ہے، یہی آخری راستہ ہے، اور اس کے بعد کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔اس سفر میں جن حضرات نے ان کی مدد کی، ان کو سہارا دیا، ان کی تربیت کی، میں انہیں بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ رب العزت اس کا اجر ان کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی عطا فرمائے۔پوری دنیا میں اور بالخصوص برصغیر میں قادیانیت برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہے، جس کا اعتراف اپنی کتابوں میں مرزا غلام قادیانی نے خود کیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح اسرائیل برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہے۔ ایک مشنری تحریک کے طور پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک تحریک ہے، راہ حق سے ہٹانے کی ایک تحریک ہے۔ لیکن ہمارے اکابر، ہمارے اسلاف ان کو اللہ رب العزت کروڑوں رحمتوں سے نوازے جنہوں نے اس فتنے کا تعاقب کیا، اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ اس کی حقیقت دنیا پر واضح کی، انہیں غیر مسلم قرار دیا، اور برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علماء نے اس بات پر اجماع کیا کہ مرزا غلام ہو یا اس کے پیروکار وہ جس نبوت کا دعویٰ کرنے والے ہیں وہ جس نبوت کی پیروی کرنے والے ہیں وہ دائرہ اسلام میں نہیں رہ سکتے، نہ مسلمانوں کے قبیلے میں ان کا کوئی حق رہتا ہے۔ لیکن حد یہ ہے کہ آج دنیا میں جہاں بھی ہم جائیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، بلکہ کیا جاتا ہے کہ آپ قادیانیوں کو غیر مسلم کیوں کہہ رہے ہیں، ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم پوری امت مسلمہ کو غیر مسلم کیوں کہتے ہو، تم پوری امت مسلمہ کو کافر کیوں کہتے ہو۔ سن 1974 میں جب یہاں اسمبلی میں اس زمانے میں مرزا ناصر کو اسمبلی کے کمیٹی کے سامنے بلایا گیا اور ان پر جرح ہوئی، تو ان کی کتابوں سے حوالے دے کر ان کو بتایا گیا کہ آپ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جو شخص مرزا غلام پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے، پکا کافر ہے، دائرہ اسلام سے خارج ہے، اولاد البغایہ ہے۔ تو جرح کے دوران حضرت والد صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے ان سے سوال کیا کہ اگر آج حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حیات ہوتے اور وہ ان پر ایمان نہ لاتے تو آپ کی نظر میں وہ کیا ہوتے تو اس نے کہا وہ کافر ہوتے، اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ حیات ہوتے اور وہ ایمان نہ لاتے تو کہا وہ کافر ہوتے، اگر حضرت عثمان رضی النورین رضی اللہ تعالی عنہ حیات ہوتے تو کہا وہ بھی کافر ہوتے اگر ایمان نہ لاتے، حضرت علی کا ذکر کیا، حضرات حسنین کا ذکر کیا، حضرت فاطمہ کا ذکر کیا، اور پورا ایوان چونک اٹھا اس سے کہ اچھا یہ ہم سب کو کافر کہتے ہیں۔تو یہ ایک بہت بڑا سوال ہے بہت بڑی جرآت ہے کہ خود کفر کرنے والا وہ امت مسلمہ کو کافر تصور کرتا ہے۔بہ فروغِ چہرہ روُیت ہمہ شَب زَند رَہِ دلچہ دِلاور است دُز دے کہ بکف چراغ داَردتو اس تمام صورتحال میں ہماری بہن خنساء محمد امین جنہوں نے اسلام لانے کی پوری داستان لکھی ہے اور پورا سفرنامہ انہوں نے ذکر کیا، اس راستے میں مشکلات کا ذکر کیا، اور تب جا کر وہ ایک مقدس منزل پر پہنچی۔ اس راہ میں جنہوں نے بھی ان کا تعاون کیا ہے، ہم ان کے بھی شکر گزار ہیں اور ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ لیکن یقیناً اسلام کا راستہ، یہ قرآن کریم کے الفاظ میں ایک گھاٹی ہے، مشکل گزرگاہ ہے۔ اور اللہ رب العزت نے اسی حوالے سے فرمایا ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے اور جب وہ شریعت کی راہ میں اور اس گھاٹی میں قدم رکھتا ہے تو جانتے ہو یہ کیا گھاٹی ہے اس میں انسانیت کی آزادی کا پیغام ہے۔ اس میں انسانی معاشرے کی معاشی خوشحالی کا ذکر ہے۔ اس میں مفلوک الحال طبقوں کا ذکر ہے۔
