کم عمری کی شادی، اسلام اور آئینی اصول ۔۔۔۔ ایک مختصر مگر دوٹوک موقف

شرمیلا فاروقی صاحبہ نے اسمبلی فلور پر اٹھارہ سال سے کم عمر شادی کو اسلام کا مسلہ ماننے سے انکار کردیا، کہہ رہی ہیں،
اس معاملے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔
شرمیلا فاروقی کا یہ کہنا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر شادی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، نہ صرف اسلامی تعلیمات کی غلط تعبیر ہے بلکہ معاشرتی حقائق سے بھی چشم پوشی کے مترادف ہے۔ اسلام نے نکاح کو ذمہ داری، بلوغت، عقل اور فریقین کی رضامندی سے مشروط کیا ہے، نہ کہ مغربی قوانین کے تحت طے کی گئی عمر کی حد سے۔ اس حساس معاملے کو مذہب سے کاٹ کر محض قانونی یا سماجی بحث بنا دینا علمی دیانت کے خلاف ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف بھی۔
بچوں کے حقوق اور تحفظ پر بات ہونی چاہیے، مگر اسلام کو اس سے الگ ثابت کرنے کی کوشش نہ تو علمی ہے اور نہ ہی دیانت دارانہ۔ بہتر یہ ہوگا کہ ہم مذہبی تعلیمات کو درست تناظر میں سمجھ کر معاشرتی اصلاح کی بات کریں، نہ کہ جذباتی بیانات کے ذریعے الجھن پیدا کریں۔
یاد رہے کہ
کرپشن کیس (سابق پاکستان اسٹیل ملز ریفرنس)
شرمیلا فاروقی، ان کے والد عثمان فاروقی اور والدہ انیسہ فاروقی کو پاکستان اسٹیل ملز سے متعلق نیب ریفرنس میں قومی سیونگ سرٹیفیکیٹس (تقریباً 39.5 ملین روپے) اپنی معلوم آمدن سے زیادہ رکھنے کے الزام میں احتساب عدالت نے 2000ء ۔۔ ۔۔ 2001ء میں قید کی سزا سنائی تھی۔
احتساب عدالت نے تینوں کو پانچ سال قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے ساتھ ہی پبلک آفس رکھنے سے 21 سال تک کی نااہلیت بھی لگائی تھی۔
یہ سزا پلی بارگین (Plea Bargain) کے تحت ہوئی، یعنی عدالت نے اُن کے ساتھ ایک مفاہمتی معاہدہ منظور کیا، جس میں انہوں نے پیسے واپس کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ نے ایک موقع پر سزا اور اس کے اثرات کو ختم بھی کیا۔ جس کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔
اصل سزا عدالتی طور پر سنائی گئی تھی، اور اس کا قانونی اثر “پلی بارگین” کی بنیاد پر مختلف عدالتوں میں زیر بحث ہے۔ سپریم کورٹ نے ابھی تک حتمی فیصلہ جاری نہیں کیا کہ سزا اور نااہلیت اب بھی برقرار ہے یا نہیں ؟
اس مغربی ایجنڈے کو قانونی شکل دینے والوں، اور اس قسم دھمکیاں دینے والوں کے لیے قاید جمعیۃ مولانا فضل الرحمن نے اسی انداز سے آج جواب بھی دیا ہے۔
” ہم پارلیمانی سیاست کرتے ہیں، جہاں قانون سازی ہوتی ہے۔ لیکن جب کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف اکثریت کے زور پر پاس کیا جائے، جبکہ آئین یہ کہتا ہو کہ قانون سازی قرآن و سنت کے تابع ہوگی، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے۔ حال ہی میں پارلیمنٹ میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمن نے قانون کو چیلنج کیا ہے ۔ ۔۔ کیا قانون کو چیلنج کرنا کوئی جرم ہے؟
پارلیمنٹ قانون بناتی ہے اور کوئی کہتا ہے کہ میں اسے نہیں مانتا ۔ ۔۔۔ تو سوال ہوتا ہے کہ وہ کون ہوتا ہے نہ ماننے والا؟ مگر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں واضح اصول دیا ہے:
لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ
یعنی جس حکم، قول یا قانون میں اللہ کی نافرمانی ہو، اس کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ قرآن ہمیں والدین کی عزت کا حکم دیتا ہے، چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں، لیکن اگر وہ شرک کی دعوت دیں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی ہوگی تو ہم اس قانون کو نہیں مانیں گے۔
ہم سب نے جس آئین پر حلف اٹھایا ہے، اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ پھر غلط قانون سازی کی پیروی کیوں کی جائے؟ یہ کہنا کہ اس پر کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے ؟، ہم یہ مرحلہ بہت پہلے طے کر چکے ہیں۔ اگر قانون حرکت میں آئے اور ہمیں سزا دے ۔ ۔۔ تو جیل بھی معمولی ہے، پھانسی بھی معمولی ہے، بلکہ اس سے آگے کی کوئی سزا ہو تو بھی ہم خندہ پیشانی سے قبول کریں گے، کیونکہ قرآن و سنت کے مقابلے میں سب کچھ ہیچ ہے۔
جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:
السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ
یہ انبیاء کی سنت ہے۔ اگر ہم خود کو انبیاء کے وارث کہتے ہیں تو پھر آزمائشوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، ہمارا موقف واضح ہے۔ ہم عام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ایسے قوانین کی پیروی نہ کریں جو اللہ کے قانون کے خلاف ہوں، بلکہ اللہ کے دیے ہوئے قانون کی پیروی کریں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں کہ کسی قانون کو شریعت کے خلاف کہیں؟ ہم اس کا حتمی دعویٰ بھی نہیں کرتے۔ اسی لیے آئین کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل قائم ہے، جہاں تمام مکاتبِ فکر کے علماء، جج اور وکلاء بیٹھے ہیں۔ قانون وہاں لے جایا جائے، دلائل اور حوالہ جات کی بنیاد پر جانچ ہو ۔۔۔ اگر وہ قرآن و سنت کے مطابق قرار دیں تو ہمیں قبول ہے، اور اگر رد کر دیں تو پھر اس پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔
لہٰذا ان باتوں کو صرف جذبات، غصہ یا شدت پسندی کہہ کر رد نہ کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن غصے کی بات نہیں کرتے، مگر جتنی بڑی برائی ہوگی، اتنا ہی بڑا ردِعمل آئے گا۔ ہمارے رد عمل پر بحث کرنے کے بجائے اپنے عمل پر بحث کرو۔ اگر تمہارا عمل ہاتھی کے برابر ہوگا تو رد عمل بھی ہاتھی کے برابر ہوگا۔
یہ بات سمجھ لو تو جمعیۃ علماء بھی سمجھ میں آ جائے گی، اس کی سیاست بھی، اس کا نصب العین بھی ۔ ۔۔ اور تب جا کر تم اپنے آئینی حلف کا تقاضا پورا کر سکو گے۔

تبصرہ لکھیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *