پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی، احتجاج یا خودکشی؟
عمران خان کی رہائی کے لیے خیبر پختونخوا میں سڑکوں اور بڑی شاہراہوں کی بندش ایک ایسا قدم ہے جس نے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام عوام کو بھی حیران کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب صوبے میں اپنی ہی حکومت ہو تو نظام کو مفلوج کر کے آخر کس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے؟ اگر مقصد وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تو اس کا بوجھ صوبے کے شہری کیوں اٹھائیں؟
شاہراہوں کی بندش سے عوام کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ مریض اسپتالوں تک بروقت نہیں پہنچ پا رہے، روزگار پیشہ افراد گھنٹوں راستوں میں پھنسے رہتے ہیں، بوڑھی خواتین اور بزرگ اذیت کا شکار ہیں۔ طلبہ امتحانی مراکز تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بعض مقامات پر عوام اس قدر تنگ آ چکے ہیں کہ جگہ جگہ پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ ہاتھا پائی اور جھگڑوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ لوگ لڑائی پر اتر آئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحول میں شدید گھٹن اور بیزاری پیدا ہو چکی ہے۔
سیاست عوامی خدمت کا نام ہے، نہ کہ عوام کو تکلیف میں ڈالنے کا۔ اگر اپنی ہی حکومت میں راستے بند کر کے عوام کو پریشان کیا جائے تو یہ سیاسی دباؤ کم اور سیاسی خودکشی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ احتجاج جمہوری حق ضرور ہے، مگر احتجاج کی نوعیت اور اس کا ہدف بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ ایسی حکمت عملی جو روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دے، وقتی توجہ تو حاصل کر سکتی ہے مگر دیرپا سیاسی فائدہ نہیں دے سکتی۔
پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے سیاسی رہنماؤں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر عوام کو براہ راست مشکلات میں نہیں ڈالا۔ طویل المدت سیاست صبر، حکمت اور عوامی اعتماد سے چلتی ہے۔ اگر کسی جماعت کے اپنے ووٹر ہی مشکلات اور اذیت کا شکار ہوں تو وہ جذباتی وابستگی آہستہ آہستہ مایوسی میں بدل سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف جذباتی ردعمل کے بجائے تدبر اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے۔ مذاکرات، آئینی راستے اور پارلیمانی جدوجہد وہ ذرائع ہیں جو جمہوری نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ سڑکوں کی بندش وقتی دباؤ تو ڈال سکتی ہے، مگر عوامی حمایت کھونے کا خطرہ کہیں زیادہ بڑا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت اپنے کارکنوں اور ووٹرز کے جذبات کو مثبت سمت دے۔ بصورت دیگر یہ حکمتِ عملی سیاسی کامیابی کے بجائے عوامی دوری اور تنظیمی کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔ سیاست میں اصل طاقت عوام کا اعتماد ہوتا ہے، اور اگر یہی کمزور پڑ جائے تو کوئی بھی تحریک دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔
