میں جناب محمود خان صاحب کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم آٹھ فروری کو ان کے پہیہ جام یا شٹرڈاون اپیل کو سپورٹ کرتے ہیں اور ہماری جماعت نے اگر کوئی جلسہ یا جلوس رکھا ہے ہم ان کو منسوخ کر دیں گے یا اگر منسوخ نہ ہو سکا تو ہم ایسے وقت پہ کریں گے کہ جس سے ان کے پہیہ جام یا شٹرڈاون کے اوپر کوئی اثر نہ پڑے۔ تو ہم اپنے پروگراموں کو بھی ان کے اعلان کے مطابق اس میں مرج کریں گے۔
ہمارا مطالبہ بلکل ایک ہے، ہمارا مؤقف ایک ہے، آٹھ فروری کو دھاندلی ہوئی ہے اور اس دھاندلی کے خلاف پہلے دن سے ہم اپوزیشن میں بیٹھے ہیں اور ہم سب کا ایک ہی مؤقف ہے۔ آج تک بھی رویے تبدیل نہیں ہوئے، یعنی اس کے بعد اگر ضمنی الیکشن ہوئے ہیں اس میں بھی اسٹیبلیٹمنٹ کے رویے تبدیل نہیں ہوئے، آج تک اگر اپوزیشن کے اپیلیں جو ہیں وہ عدالتوں میں ہیں یا ٹریبونل میں ہیں ایک اپیل کو بھی حرکت نہیں دی جا رہی اور اگر کسی کو حرکت دی جا رہی ہے تو نتیجہ وہی جو انتخابات کا تھا۔
تو اس حوالے سے ہم اپنے مطالبے پہ قائم بھی ہیں اور اس مطالبے پہ ہمارا مؤقف بھی ایک ہے، ہم آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے الیکشن کو جس طرح اس دن ہم نے مسترد کیا تھا آج بھی ہم اسی مؤقف پہ قائم ہیں، ہم اس کو مسترد کرتے ہیں اور نئے الیکشن کا ہم مطالبہ کرتے ہیں عام انتخابات کا، دوسرا یہ کہ آج جو پنڈی میں واقعہ ہوا ہے پنڈی اسلام آباد کے ایک امام بارگاہ میں اور جس میں شاید پچاس سے زیادہ لوگ اس وقت تک جان بحق ہو چکے ہیں، تو اس واقعہ پہ ہم شدید افسوس کا بھی اظہار کرتے ہیں، اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ان کے جو شہداء ہیں، ان کے جو زخمی ہیں، جو متاثرہ لوگ ہیں، ان سے اپنی بھرپور ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی ضرور کہتے ہیں کہ حکومت کی امن آمان کے قیام یا پبلک کو امن آمان دینا یہ اس کا فیلئر ہے اور اس کی ناکامی ہے اور اسے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم ملک میں لوگوں کو امن نہیں دے سکے، ہم تو رو رہے تھے کہ کے پی میں یہ صورتحال ہے یا بلوچستان میں یہ صورتحال ہے اور پوری ریاست بے بس ہو چکی ہے اور ہم یہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ ریاست کمزور ہو، ریاست کو ہم طاقت ور دیکھنا چاہتے ہیں، یہ ملک کی ایک دفاع ہے لیکن بہرحال جس برے حالات کے ساتھ کئی دہائیوں سے ہمارے عوام گزر رہے ہیں، پبلک گزر رہی ہے، متاثر ہے، وہ ابھی تک اس میں کوئی فرق نہیں آیا اور مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا معاملہ ہے۔