مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا فرخ کھوکھر کی رہائش گاہ پر یوتھ کنونشن اور شمولیتی تقریب سے خطاب

گرامی قدر جناب فرخ کھوکھر صاحب، سٹیج پر موجود معزز علماء کرام، معززین، آج کا یہ اجتماع خصوصیت کا حامل اجتماع ہے، فرخ کھوکھر صاحب تو باقاعدہ اپنے ڈیرے پر ایک بڑے اجتماع میں شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں اور اس میں بھی میں حاضر ہوا تھا۔ آج ان کے دوست، ان کے رفقاء مختلف اطراف سے ان کے ڈیرے پہ جمع ہیں، اور اجتماعی طور پر اس کنونشن میں وہ جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان کر رہے ہیں میں اپنی طرف سے اور پوری جماعت کی طرف سے دل کی گہرائیوں سے سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ آپ کا یہ فیصلہ قافلہ حریت کے عزم کو اور بھی تقویت دے اور آپ کی رفاقت کے ساتھ یہ قافلہ اپنی منزل کو پہنچے۔ تاکہ پاکستان کو ہم اسلام کا قلعہ بناسکے اور امن و آشتی کا گہوارہ بنا سکے۔

میرے محترم دوستو! آج آٹھ فروری ہے اور دو سال پہلے اسی دن ملک میں الیکشن ہوئے اور اس کا جو نتیجہ سامنے ایا ملک بھر میں اس نتیجے کو مسترد کر دیا گیا، اس نتیجے کو جعلی قرار دیا گیا گیا اور آج جو ملک پر حکومت کر رہے ہیں ایک جعلی مینڈیٹ کے ساتھ ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ جمیعت علماء اسلام ایسی حکومت میں شامل نہیں ہو سکتی اور ہم نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا اور اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میرے محترم دوستو! اگر ہمارا تعلق جمیعت علماء اسلام کے ساتھ ہے تو یہ جماعت محض اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی، یہ جماعت کسی دنیاوی مفادات کی جنگ نہیں لڑ رہی، اقتدار میں آنا منزل مقصود نہیں ہے کیوں کہ ہمارے ہاں ایک تاثر ہے آپ حکومت میں پہنچ گئے تو جیسے آپ نے منزل پالی۔ جمہوری اور پارلیمانی سیاست میں حکومت میں پہنچ جانا بھی آپ کے سفر کا حصہ ہوتا ہے، منزل پر پہنچنے کا نام نہیں ہوتا۔ حکومت تو آج بھی ہے، بنائی نہیں گئی، کچھ جماعتوں کو آپس میں چپکایا گیا ہے اور کئی جماعتوں پر جو متضاد خیالات کے بھی ہیں ایک دوسرے کے ساتھ چپکے ہوئے اس کو حکومت کا نام دے دیا ہے۔ اس طرح کی حکومتیں تشکیل دینا یہ جمہوریت کا مذاق ہے، سیاست کا مذاق ہے، اکثریت حاصل کر لینا یہ کوئی عیب کی بات نہیں، آپ عوام کے ووٹ سے اکثریت حاصل کریں، ہم خوشی سے آپ کی حکومت کو قبول کریں گے کیوں کہ وہ قوم کا فیصلہ ہوگا اور قوم کو یہ اختیار پاکستان کے آئین نے دیا ہے، قوم کو یہ اختیار قانون نے دیا ہے۔ تو ہماری جنگ نہ ائین کے ساتھ ہے، نہ قانون کے ساتھ ہے ہم تو آئین اور قانون کے رکھوالے ہیں، اگر قوم اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی پارٹی کو مینڈیٹ دیتی ہے تو ہمیں قبول کرنے میں کوئی جھجھک نہیں، لیکن ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، ہمارے مشاہدات ہیں کہ کس طرح نتائج تبدیل کیے گئے، کس طرح جھرلو پھیرا گیا، کس طرح انتخابات کے ساتھ مذاق کیا گیا، اور الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ نتائج تو ہم تیار کرتے ہیں، میں چیلنج کرتا ہوں الیکشن کمیشن کو پورے پاکستان کے ایک حلقے کا نتیجہ بھی معلوم نہیں تھا، نتیجے باہر سے اتے تھے الیکشن کمیشن کے دفتر سے جاری ہوتے تھے۔ ایسا کٹھ پتلی کمیشن شاید دنیا میں کہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔

تو آج کا دن، اس حوالے سے اس کا تذکرہ کرنا ضروری تھا تاکہ یہ بات آج کے دن کے نسبت سے ریکارڈ پر رہے کہ جمعیت علماء اسلام آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے انتخابات کو تسلیم نہیں کرتی، ہم نے اس دن بھی مسترد کیا تھا، ہم آج بھی مسترد کرتے ہیں۔

اور پھر میرے محترم دوستو! آئیے اس کی کارکردگی کو بھی دیکھ لیتے ہیں، جمعیت علماء اسلام محض الزام تراشیوں کی سیاست نہیں کیا کرتی، حقائق پر مبنی اختلاف رائے کرتی ہے، ہماری روش میں انتہا پسندی نہیں ہے، ہماری روش میں اعتدال ہے اور دلیل ہے اور اس بنیاد پر ہم قوم کی رہنمائی بھی کر رہے ہیں اور قوم کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں