منشور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ۔
🕌
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
منشور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان
پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے اور غریب عوام، کسانوں، مزدوروں اور معاشرے کے دیگر طبقات کو اسلام کے عطا کردہ بنیادی حقوق دلانے کا عزم
📅 ابتدا: ستمبر 1969ء 📝 آخری ترمیم: جون 2011ء 🌐 juidigitalmedia.com
وَالْعَصْرِ ۞ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۞ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
اسلام سب سے پہلے عقیدہ توحید کی تعلیم دیتا ہے۔ پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر عمل میں آیا ہے۔ اس لیے سب سے پہلی ذمہ داری پاکستان کی یہ ہے کہ وہ اپنی حدود میں مکمل اسلامی نظام قائم کر کے پوری دنیا میں قرآن کے فرمودہ انسانی منشور کے قیام کی راہ ہموار کرے۔
1969
منشور کا آغاز ستمبر
22
اسلامی نکات
31
دستخط کرنے والے علماء
4
صوبے شریک
2011
آخری نظرثانی
⚖️
نظام حکومت
  • 1
    سرکاری مذہب مملکت کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا۔
  • 2
    22 اسلامی نکات تمام فرقوں کے نمائندہ جید علماء کے مرتب کردہ 22 اسلامی نکات کی روشنی میں ملک کے دستور کو مکمل اسلامی بنایا جائے گا۔
  • 3
    قرآن و سنت کے قوانین صرف قرآن و سنت کے احکام ہی ملک کے اساسی قوانین قرار پائیں گے۔
  • 4
    دستور کا تحفظ ملک کے دستور اور قانون میں اسلام کے کامل و مکمل دین ہونے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا دستوری و قانونی تحفظ کیا جائے گا۔
  • 5
    معیار حکومت خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ادوار حکومت کو اسلامی نظام حکومت کے جزئیات متعین کرنے کے لیے معیار قرار دیا جائے۔
  • 6
    کلیدی اسامیاں ملک کی کلیدی اسامیاں غیر مسلموں کے لیے ممنوع قرار دی جائیں گی۔
  • 7
    صدر و وزیر اعظم کے لیے اسلامی شرائط صدر مملکت اور وزیر اعظم کا مسلمان مرد ہونا اور پاکستان کی غالب اکثریت اہل سنت کا ہم مسلک ہونا ضروری ہو گا۔
  • 8
    مسلمان کی تعریف مسلمان کی قانونی تعریف یہ ہو گی کہ وہ قرآن و حدیث پر ایمان رکھتا ہوئے ان کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اسلاف رحمہم اللہ اجمعین کی تشریحات کی روشنی میں حجت سمجھے۔
  • 9
    غیر اسلامی فرقے جو فرقے اسلام کے کسی بنیادی عقیدہ ختم نبوت وغیرہ سے انحراف کے مرتکب ہو چکے ہیں انہیں غیر اسلامی فرقے قرار دیا جائے گا۔
  • 14
    انتخابی طریق — جماعتی پاکستان کی مجالس شوریٰ (اسمبلیوں) وغیرہ میں نمائندگی کے لیے انتخابات کا نظام شخصی مقابلہ کی بجائے جماعتی مقابلہ پر قائم کیا جائے گا۔
📖
نظام شرعی کا قیام
اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ
وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو زمین پر حکومت عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے زکوٰۃ دیں گے نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے
  • الف
    پابندی نماز ملک میں مسلمان عوام سے نماز باجماعت کی پابندی کرائے گا۔ بلا عذر شرعی قصداً نماز ترک کر دینے والوں کو شرعی سزائیں دے گا۔
  • ب
    زکوٰۃ کی وصولی ہر صاحب نصاب مالدار کے مال سے مقررہ مقدار زکوٰۃ اور پیداوار میں سے عشر و نصف عشر نکالنے اور اسے مقررہ مصارف زکوٰۃ میں صرف کرنے کی نگرانی کرے گا۔
  • ج
    شعائر اسلامی کی پابندی تمام عبادات، احکام و شعائر اسلامی کی پابندی کرائے گا۔
  • م
    شرعی سزائیں زنا، چوری، رہزنی اور شراب خوری پر شرعی سزائیں — حد زنا، حد سرقہ، حد رہزنی اور حد خمر و قذف وغیرہ جاری کرے گا۔
  • ز
    اسلامی اخلاق کا تحفظ قانونی سطح پر ملک سے فحاشی، عریانی، بے حیائی اور ثقافت کے نام پر کیے جانے والے رقص و سرور وغیرہ کی محافل کو قابل سزا جرم قرار دے گا۔
📚
تعلیم
  • 1
    نظام تعلیم نظام تعلیم مکمل اسلامی ہو گا۔
  • 2
    تعلیم کی بنیاد تعلیم کی بنیاد اسلام پر اور اسلام کی تاریخ اور مادری زبان کی اساس پر رکھی جائے گی۔
  • 3
    حصول تعلیم — بالکل مفت دسویں (میٹرک) جماعت تک تعلیم بالکل مفت ہو گی۔ اور بتدریج دس سال کے اندر تمام درجات میں مفت تعلیم کر دینے کی کوشش کی جائے گی۔
  • 6
    تعلیم بالغاں ان پڑھ بالغاں کی تعلیم کا بھی وسیع پیمانہ پر ایسا انتظام کیا جائے گا کہ 5 سال کے اندر کم از کم ملک کی 4/1 بالغ آبادی بنیادی تعلیم سے بہرہ ور ہو جائے گی۔
  • 12
    دینی تعلیمی ادارے دینی مدارس کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی ترقی میں زیادہ سے زیادہ مدد دی جائے گی۔ ان کی اسناد سرکاری درسگاہوں کی اسناد کے برابر شمار ہوں گی۔
  • 19
    مخلوط تعلیم کی ممانعت مخلوط تعلیم کو ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔
  • 22
    عربی زبان کی تعلیم عربی زبان کو تعلیمی اداروں میں لازمی زبان کا مقام حاصل ہو گا۔
  • 26
    ذریعہ تعلیم ملکی سطح پر ذریعہ تعلیم اردو ہو گا۔
🏥
صحت
  • 1
    حفظان صحت اور علاج ملک میں اعلیٰ پیمانہ پر حفظان صحت اور علاج کا ایک وسیع ترین ادارہ تشکیل دیا جائے گا۔ دیہات کی کسان آبادیوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور شہر کے غریبوں کا خاص خیال رکھا جائے گا۔
  • 4
    علاج کی سہولت بلامعاوضہ علاج کی تمام سہولت بلا معاوضہ ایہام کی جائیں گی۔
  • 8
    یونانی، ہومیوپیتھک اور آیورویدک طریقہ ہائے علاج ملک میں دیسی یونانی، ہومیوپیتھک اور آیورویدک طب کو فروغ دیا جائے گا۔
💼
معاش
  • 1
    حصول معاش کے مواقع پاکستان کے ہر شہری کو حصول معاش (روزگار) کے باعزت مواقع ایہام کیے جائیں گے۔
  • 2
    بے زمین کسانوں کے لیے معاش دیہات میں کاشت کا کام کرنے والے بے زمین افراد کو ایک کنبہ (فیملی) کی باسہولت گزارا اوقات کے لیے بسبق گزارہ زرعی کا قطعہ مفت دیا جائے گا۔
  • 8
    بے روزگاری کا کلیتہ خاتمہ غرضیکہ دیہات اور شہروں سے بے روزگاری کا کلیتہ “خاتمہ” کردیا جائے گا۔
  • 10
    محروم افراد کی معاش معذور ہو جانے والے افراد، سرپرست کے فوت ہو جانے سے یتیم، بیوہ اور بے سہارا رہ جانے والے افراد کے گزارہ کا فوری معقول انتظام کیا جائے گا۔
🏦
مالیات و اقتصادیات
لَا يَكُوْنَ دُوْلَةً بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ
اغنیاء کے درمیان دولت (محصور) نہ رہنے پائے۔
  • 2
    ناجائز ذرائع کا خاتمہ سودی کاروبار، سٹہ بازی، بینک کاری اور انشورینس جیسے کاروبار — ان کو شکن کر کے یا ان کی شرعی احکام کے مطابق اصلاح کرکے ملکی دولت کو ملک بھر کے عوام میں دائرہ و سارے رکھنے کے وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
  • 3
    سود اور سودی کاروبار کی ممانعت سودی کاروبار اور سودی لین دین کی ہر شکل کو ہر شبہ سے بالکل خارج کر دیا جائے گا اور آئندہ کے لیے سودی کاروبار ممنوع اور سخت سزا کا موجب قرار دیا جائے گا۔
  • 6
    ملک کے قدرتی وسائل عوام کی ملکیت ملک کے قدرتی وسائل معیشت، معدنیات، گیس، پانی، جنگلات، تیل وغیرہ کسی ایک فرد خاندان یا ادارہ کی ملکیت و اجارہ داری میں نہیں جانے دیے جائیں گے۔ وہ شریعت کی رو سے حکومت کی ملکیت ہوں گے۔
🌾
زراعت
مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ ، وَلَيْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ
“جس نے بھی بے آباد زمین کو آباد کیا وہ اس کے لیے ہے اور جابر ظالم کا اس میں کوئی حق نہیں”
  • 3
    ناجائز طور پر حاصل کردہ زمینوں کی واپسی سیاسی رشوت کے طور پر، دھوکہ اور فریب کے ذریعہ، جبر اور ناجائز طور پر جو زمینیں و جاگیریں حاصل کی گئی ہیں وہ بغیر معاوضہ واپس لے لی جائیں گی اور اس علاقے کے مستحق کاشتکاروں میں تقسیم کر دی جائیں گی۔
  • 13
    زرعی پیداوار کی فروخت میں کاشتکاروں کا حق زرعی پیداوار اور اس کی فروخت کا ایسا انتظام کیا جائے گا کہ اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ آڑھتیوں، سٹاک ہولڈروں، اسٹاک ایکسچینجوں، بینکوں، سٹہ بازوں، دلالوں وغیرہ کی جیب میں جانے کی بجائے کاشتکاروں اور کھیت مزدوروں کو پہنچے۔
🏛️
عدلیہ کا نظام
  • 1
    آزاد عدلیہعدلیہ مکمل طور پر انتظامیہ سے آزاد ہو گی۔
  • 2
    آسان ترین حصول انصافحصول انصاف کے طریقے بالکل آسان بنائے جائیں گے۔
  • 3
    مفت انصافعدالتوں سے انصاف کا حصول مفت ہو گا۔
  • 5
    قوانین اسلامیملک کے دیوانی و فوجداری قوانین میں شریعت کے مطابق تبدیلیاں کی جائیں گی۔
🏢
انتظامیہ
  • 2
    انتظامیہ کی حیثیتانتظامیہ کے ادنیٰ و اعلیٰ سب ہی ارکان کی حیثیت ملک و ملت کے خادم و نگہبان کی ہو گی۔
  • 5
    حسن سلوک کی شرطعوام کی حاجت مند افراد کے ساتھ حسن سلوک انتظامیہ کا اولین اصول ہو گا۔
  • 7
    بدعنوانی اور رشوت پر سخت گرفترشوت اور بدعنوانی کے ارتکاب پر برطرفی کے علاوہ سخت ترین سزا دی جائے گی۔
🌍
خارجہ پالیسی
  • 1
    آزاد و غیر جانبداراسلامی عظمت کے اظہار پر مبنی آزادانہ و غیر جانبدارانہ ہو گی۔
  • 3
    مسلمان ملکوں سے اشتراکمسلمان ملکوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اشتراک پر مبنی ہو گی۔
  • 6
    جدوجہد آزادی کی حمایتمحکوم ملکوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت و معاونت کی جائے گی۔
  • 9
    اہم معاملاتفلسطین، بیت المقدس اور تمام عرب علاقوں سے یہودی، امریکی اور برطانوی سامراجی تسلط کے خاتمہ، افغانستان میں غیر ملکی جارحیت کے خاتمہ، کشمیر کی آزادی، بھارت کے مسلمانوں کی جان و مال، آبرو، دین، معاش، رہائش وغیرہ کے تحفظ کی کوشش کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اولین و بنیادی اہمیت حاصل ہو گی۔
🛡️
دفاع
  • 1
    جہاد کی تربیتہر بالغ مسلمان کو جہاد کی تربیت دی جائے گی۔
  • 3
    ملک کا دفاعملک کو دفاع میں خود کفیل بنایا جائے گا۔
  • 8
    اسلامی احکامات پر عملفوجی تربیت میں اسلامی احکام پر عمل کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی اور عسکری قوانین شرعی ہوں گے۔
  • 10
    لائسنس پر پابندی کا خاتمہاسلحہ لائسنس پر پابندی ختم کی جائے گی، اس کا اندراج ڈاکخانہ میں کیا جائے گا۔
22 اسلامی نکات
درج ذیل نکات وہ ہیں جنہیں 1952ء میں پاکستان کے جید علماء اور تمام مسلم فرقوں کے نمائندگان نے مرتب کرکے دستور پاکستان کی اساس بنانے کیلیے پیش کیا تھا۔
جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے منشور میں بھی ان نکات کو شامل کیا ہے۔
1
حاکمیت اعلیٰ
اصل حاکم تشریعی و تکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔
2
قرآن و سنت کی بالادستی
ملک کا قانون کتاب و سنت پر مبنی ہو گا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جائے گا، نہ ایسا حکم دیا جائے گا جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
3
اسلام کی بنیاد
مملکت کسی جغرافیائی، نسلی، لسانی یا کسی اور تصور پر نہیں، بلکہ ان اصول و مقاصد پر مبنی ہو گی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطہ حیات ہے۔
4
اسلامی فرائض
اسلامی مملکت کا یہ فرض ہو گا کہ کتاب و سنت کے بتائے ہوئے معروضات کو قائم کرے، منکرات کو مٹائے اور شعائر اسلام کے احیاء کا انتظام کرے۔
5
اتحاد امت
اسلامی مملکت کا یہ فرض ہو گا کہ وہ مسلمانان عالم کے رشتہ اتحاد و اخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ملت اسلامیہ کی وحدت کے حفظ و استحکام کا انتظام کرے۔
6
بنیادی ضروریات کی کفالت
مملکت لاحق ذمہ لینے وریغہ تمام ایسے لوگوں جو اکتساب رزق کے قابل نہ ہوں کی لابدی انسانی ضروریات یعنی غذا، لباس، مسکن، معالجہ اور قیام کی کفیل ہو گی۔
7
شہری حقوق
باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں — حفاظت جان و مال و آبرو، آزادی ذمہ مسلک، آزادی عبادت، آزادی ذات۔
8
قانونی تحفظ
مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہر کا کوئی حق اسلامی قانون کی سند جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جائے گا۔
9
مسلم فرقوں کی آزادی
مملکہ اسلامی فرقوں کو حدود قانون کے اندر پوری ذمہبی آزادی حاصل ہو گی۔ انہیں اپنے پیروؤں کو اپنے ذمہ کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہو گا۔
10
غیر مسلم باشندوں کے حقوق
غیر مسلم باشندگان مملکت کو حدود قانون کے اندر ذمہ و عبادت، ذہبی و ثقافت اور ذمہبی تعلیم کی پوری آزادی ہو گی۔
11
معاہدات کی پابندی
غیر مسلم باشندگان مملکت سے حدود شریعت کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہیں ان کی پابندی لازمی ہو گی۔
12
رئیس مملکت
رئیس مملکت کا مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے دیانت، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔
13
نظم حکومت
رئیس مملکت ہی نظم مملکت کا اصل ذمہ دار ہو گا، البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جزو کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔
14
شوراری حکومت
رئیس مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں، بلکہ شورائی ہو گی یعنی وہ ارکان حکومت اور منتخب نمائندگان جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض سر انجام دے گا۔
15
دستور کا تحفظ
رئیس مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہو گا کہ وہ دستور کو کلاً یا جزوًا معطل کر کے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
16
عزل کا اختیار
جو جماعت رئیس مملکت کے انتخاب کی مجاز ہو گی، وہ اکثریت آراء سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہو گی۔
17
مساوی شہری حقوق
رئیس مملکت شہری حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہو گا اور قانونی مواخذہ سے بالاتر نہ ہو گا۔
19
آزاد عدلیہ
محکمہ عدلیہ، محکمہ انتظامیہ سے جداگانہ اور آزاد ہو گا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئت انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
21
ملکی اتحاد
ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکت واحدہ کے انتظامی اجزاء متصور ہوں گے، ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی واحدہ جات کی نہیں، بلکہ انتظامی علاقوں کی ہو گی۔
22
تعبیر دستور
دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہو گی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
✍️
22 نکات پر دستخط کرنے والے اسلام گرامی
12/13/14/15 ربیع الثانی 1370ھ مطابق 21/22/23/24 جنوری 1951ء کو کراچی میں مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم کی زیر صدارت ان 22 نکات پر اتفاق ہوا تھا۔
1
مولانا سید سلیمان ندوی مرحوم
2
مولانا شمس الحق افغانی مرحوم
3
مولانا بدر عالم صاحب مرحوم
4
مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی مرحوم
5
مولانا عبد الحامد صاحب قادری بدایونی مرحوم
6
مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کراچی مرحوم
7
مولانا محمد ادریس کاندھلوی مرحوم
8
مولانا خیر محمد صاحب مرحوم ملتان
9
مولانا مفتی محمد حسن صاحب جامعہ اشرفیہ لاہور
10
پیر امین الحسنات صاحب ماکیڑی شریف
11
مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم کراچی
12
حاجی خادم الاسلام صاحب (خلیفہ حاجی ترنگزئی)
13
قاضی عبدالصمد صاحب سربازی (بلوچستان)
14
مولانا اطہر علی مرحوم (مشرقی پاکستان)
15
مفتی جعفر حسین مرحوم مجتہد (شیعہ حضرات میں سے)
16
مولانا محمد اسمٰعیل صاحب مرحوم گوجرانوالہ (اہل حدیث)
17
سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی مرحوم
18
محمد ظفر احمد صاحب انصاری مرحوم