قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کا سیکٹر فور ائیرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں خطاب

امیر جمعیت علماء اسلام کشمیر جناب مولانا سعید یوسف خان صاحب، ان کی مجلس عاملہ کے تمام معزز اراکین، اس اجتماع میں موجود جموں و کشمیر جمعیت علماء کے تمام ذمہ داران، میرے بزرگ، میرے بھائی! میں سب سے پہلے جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر کی رکن سازی اور تنظیم سازی کے مراحل کی تکمیل پر اور مرکزی مجلس عاملہ کی تشکیل پر تمام دوستوں کو ساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان تمام ساتھیوں کو جمعیت علماء اسلام کے نصب العین اور اس کے اغراض و مقاصد کے لیے مخلصانہ جدوجہد اور کاوشوں کی توفیق عطاء فرمائے۔

میرے محترم دوستو، جب 1919 میں جمعیت علماء کا قیام برصغیر کی سطح پر عمل میں لایا گیا، حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ اس کے پہلے صدر بنے، تو اس جماعت کے قیام کی ضرورت کو بیان کیا گیا ہے کہ دین اسلام انسان کی رہنمائی کرتا ہے انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی، لیکن انفرادی زندگی میں شریعت کے حوالے سے رہنمائی کے لیے ایک فرد عالم کی رائے بھی کافی ہو جاتی ہے، کسی کو نماز کا مسئلہ در پیش ہو گیا، کسی کو روزے کا مسئلہ، زکوۃ کا مسئلہ، نکاح طلاق کا مسئلہ، میراث کا مسئلہ، تو ہم اپنے مدرسے کے دار الافتاء میں جاتے ہیں، مفتی صاحب سے رجوع کرتے ہیں، اپنے محلے کے امام کے پاس جاتے ہیں، گاؤں کے امام کے پاس جاتے ہیں اور وہ اس مسئلے پر جو رہنمائی فرما دے ہم اپنے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ مفتی صاحب نے ہمیں مسئلہ بتا دیا، لیکن اس مسئلے کا تعلق ملی، قومی اور اجتماعی زندگی سے ہو اس میں ایک فرد عالم کی رائے حجت نہیں ہوتی، اس کے لیے علماء کے اجتماعی رائے کی ضرورت ہے۔ تو ایک جماعت بنائی جائے، جس میں علمائے کرام بیٹھے، اس کا ایک شورائی نظام ہونا چاہیے اور اس شورائی نظام کے تحت علماء مسائل کو پرکھیں، اس پر بحث کریں اور جب کسی نتیجے پر پہنچے تو اس کو قوم کے سامنے پیش کریں، تاکہ قوم کو رہنمائی کے لیے راستہ مل سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں