صدرِ اجلاس، اکابر علمائے کرام، زعمائے قوم، بزرگانِ ملت، غیور اور غیرتمند مسلمان بھائیوں! میں جمعیت علمائے اسلام صوبہ بلوچستان، جمعیت علمائے اسلام کے اضلاع کے تنظیموں کا انتہائی شکر گزار ہوں، جنہوں نے آج اپنے مرشد، قائد، مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللّٰہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے حوالے سے قلعہ سیف اللہ میں اس عظیم الشان، فقیدالمثال کانفرنس کا انعقاد کیا۔ یہ صرف مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو خراجِ عقیدت نہیں، بلکہ اس سفرِ عظیم کے اُن رفقائے کار کو بھی خراجِ عقیدت ہے جو مفکرِ اسلام کے ساتھ قدم بہ قدم شریکِ سفر رہے۔ اسی کے ساتھ ہم امامِ انقلاب، قائدِ ملتِ اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمان دامت برکاتہم العالیہ اور جمعیت علمائے اسلام کے تمام کارکنان و مجاہدین کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے حضرت مفتی صاحبؒ اور اُن اکابر کے امانت و پیغام کے پرچم کو آج بھی سربلند رکھا ہے۔ ان شاءاللہ العزیز آج کا یہ اجتماع اعلان کر رہا ہے کہ ہم رسولِ اکرم ﷺ کے برحق جھنڈے کو ہمیشہ سر فراز اور سر بلند رکھیں گے۔ (پشتو سے اردو ترجمہ)
آج بھی مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ بلوچستان کے یہ غیور مسلمانوں کے ان کے عقائد کے ان کے نظریات کے ان کے افکار کا تحفظ جمعیت علمائے اسلام کے یہ سر بکف اور سربلند مجاہدین کررہے ہیں اور قلعہ سیف اللہ سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ یہ ہمارے اکابر و اسلاف کی امین جماعت ہے اور برملا اعلان کر رہے ہیں کہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کسی فرنگی اسٹیبلشمنٹ کی بنائی ہوئی جماعت نہیں ہے، یہ جدوجہد آزادی کے اُن مجاہدین کی بنائی ہوئی جماعت ہے جنہوں نے قابض انگریز کے خلاف جدوجہد کی، قربانیاں دیں، برصغیر پاک و ہند کے مظلوم انسانیت کو فرنگی کے اس جبروت سے آزاد کیا اور مسلمانوں کے عقائد کا تحفظ کیا۔ آج بھی اپنے اسلاف کے دیے ہوئے مشن پر گامزن ہے، اور قائدِ جمعیت، بطلِ حریت حضرت مولانا فضل الرحمان دامت برکاتہم العالیہ کی سربراہی میں بین الاقوامی قوتوں کو بھی چیلنج کررہی ہے، اپنی اسٹیبلشمنٹ کو بھی چیلنج کررہی ہے کہ پاکستان، جو اسلام کے نام پر بنا، اسلامی نظام ہی اس ملک کا مملکتی مستقبل ہے، اور آج بھی ہم اپنے اکابر اور اسلاف کے ساتھ یہ عہد و پیمان کرنے کے لیے اس قوت کا مظاہرہ قلعہ سیف اللہ میں کررہے ہیں، کہ ان شاءاللہ العزیز ہم نے نہ انگریز کے جبر کو تسلیم کیا، نہ پاکستان کے اندر کسی فوجی جنرل کے جبر کو تسلیم کرتے ہیں۔
آج بھی 78 سال گزر جانے کے باوجود جو ریاست اسلام کے نام پر بنی، 25 سال پاکستان کے ریاست کو ایک آئین نہ دے سکے، اس مملکت خداد پاکستان کو اگر متفقہ آئین دیا تو مفکرِ اسلام اور جمعیت علمائے اسلام کے بدولت ملا، اگر اس ریاست کو اسلامی آئین ملا تو وہ بھی مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ اور جمعیت علمائے اسلام کے مرہون منت ملا، اگر اس مملکت خداد پاکستان میں مدارس کو ایک مضبوط اور منظم پلیٹ فارم دیا گیا وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی صورت میں تو وہ بھی مفکر اسلام مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کی بدولت ملا۔ انگریز کی بھی خواہش تھی پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ کی بھی خواہش ہے کہ پاکستان کے اندر مدراس کے اس مضبوط قلعے میں شگاف ڈال دیا جائے، لیکن مدارس کے اس مضبوط قلعے کے لیے اسی مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ نے سیاسی محاذ پر جمعیت علمائے اسلام کا پلیٹ فارم اس قوم کو دیا جو علماء کی سرپرستی میں پاکستان کے مذہبی تشخص کو بھی تحفظ دیے ہوئے ہیں، جو پاکستان میں اسلامی تہذیب کو بھی تحفظ دیے ہوئے ہیں، جو پاکستان کے آئین میں اسلامی دفعات کو بجی تحفظ دیے ہوئے ہیں۔ آج بلوچستان کے عوام بھی جانتے ہیں کہ ان پر کس کی حکومت ہے۔ میں معذرت چاہتا ہوں صوبائی وزیرِ اعلیٰ سے اور میں معذرت چاہتا ہوں اپنے صوبائی کابینہ سے بھی لیکن میں جانتا ہوں کہ آپ کو جبراً حکومت میں بٹھایا گیا ہے، جمعیت علمائے اسلام جو پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے لیے آواز بلند کرتی ہے ہم ان شاءاللہ اس قوم کو حقیقی آزادی بھی دلائیں گے، حقیقی جمہوریت بھی دلائیں گے، اور آپ کو بھی اس قابض مافیا سے آزادی دلائیں گے کہ آپ بھی قوم کے ووٹ سے اقتدار میں آئیں۔