سیاسی شعور کی بیداری کی ضرورت

دین کی خدمت میں تقسیمِ کارایک مسلم اصول ہے۔ کوئی تعلیم و تدریس میں مصروف ہے، کوئی دعوت و تبلیغ میں، کوئی خانقاہی اصلاح میں اور کوئی سیاسی میدان میں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ان تمام شعبوں کے درمیان باہمی قدر، احترام اور تائید موجود ہو، اگر ایک شعبہ دوسرےکی نفی کرنے لگے تویہ تقسیمِ کارنہیں، بلکہ تقسیمِ افکار بن جاتی ہے، اور یہی رویہ فتنہ کا سبب بنتا ہے۔جمعیت علماء اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ دین کے تمام شعبوں کو ایک مربوط اکائی کے طور پر دیکھا۔ مدارس و مساجد، خانقاہیں اور سیاسی میدان ، یہ سب ایک ہی مقصد یعنی خدمت دین کے مختلف پہلو ہیں۔ اکابر جمعیت نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ دینی جدوجہد صرف محراب و منبر تک محدود نہیں بلکہ ایوانِ اقتدار تک بھی اس کی رسائی ہونی چاہیے، تاکہ دین کے تقاضے اجتماعی زندگی میں بھی نافذ ہو سکیں۔یہ فکر محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک مکمل منشور ہے، جس کی عملی تعبیر ہمیں جمعیت علماء کی پالیسی، افکار، کردار اور تاریخ میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہے. دورِ حاضر کا بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض دینی طبقات میں اخلاص، تقویٰ اور قربانی کا وہ جذبہ کمزور پڑتا جا رہا ہے جو اسلاف کا خاصہ تھا۔ خوف، مصلحت اور سہولت پسندی نے دل و دماغ کو مرعوب کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں جمعیت علماء اسلام کی پالیسی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خانقاہی محنت کے ذریعے اخلاص و تقویٰ کی تجدید،ذکر و فکر کے ذریعے باطن کی اصلاح اور سیاسی شعور کے ذریعےغیرتِ ملی کی بیداری لازم و ملزوم ہیں۔جمعیت کی سوچ یہ ہے کہ جو شخص صرف خانقاہ تک محدود ہو اور زمانے کے سیاسی فتنوں سے بے خبر ہو، وہ ادھورا ہے۔ اور جو صرف سیاست میں ہو مگر اخلاص و تقویٰ سے خالی ہو، وہ بھی ادھورا ہے۔ عدل و اعتدال یہی ہے کہ دین کی روح بھی باقی رہے اور ملت کی اجتماعی حفاظت بھی ہو۔اسی سیاسی شعور نےبرصغیر کےعلماء کو انگریز کے سامنے سینہ سپر کیا۔ اسی شعور نے تحریکِ ریشمی رومال کو جنم دیا۔ اسی شعور نے شیخ الہندؒ کو مالٹا کی قید برداشت کرنے پر آمادہ کیا۔ اور اسی شعور کی عملی تصویر ہمیں جمعیت علماء اسلام کی ہر دور کی جدوجہد میں نظر آتی ہے، خواہ وہ آمریت کے خلاف آواز ہو، آئین میں اسلامی دفعات کاتحفظ ہو، یا مظلوم طبقات کی حمایت۔حضرت شیخ الہندؒ نے ملت کو صرف عبادات کا سبق نہیں دیا بلکہ سیاسی بیداری، آزادیٔ وطن، غیرتِ ملی، شجاعت اور حکمت کا شعور بھی عطا کیا۔ یہی وہ فکر ہے جسے جمعیت علماء اسلام نے اپنے فکری ڈھانچے کا حصہ بنایا اورآج بھی اگر دینی طبقات اس توازن کو اپنا لیں کہ اخلاص و تقویٰ کے ساتھ سیاسی شعور ہو۔ خانقاہی محنت کیساتھ اجتماعی جدوجہد کریں تو ملت کی کھوئی ہوئی قوت واپس آسکتی ہے۔ملت کی بقا، عزت اور تحفظ کا راز انہی صفات کے اپنانے میں ہے جن کی تعلیم ہمارے اکابر نے دی اور جنہیں جمعیت نے اپنی تاریخ میں عملی صورت دی ہے۔ ان شاء اللہ، اسی عدل و اعتدال کی محنت کے ثمرات پھر ظاہر ہوں گے۔

تبصرہ لکھیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *