- الفاس جمعیت کا نام جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ہوگا۔ مرکزی دفتر لاہور، سب آفس اسلام آباد میں اور صوبائی دفاتر صوبوں کے صدر مقامات پر ہوں گے۔
- باس جمعیت کا دائرہ عمل پورا پاکستان ہوگا۔
- جبلحاظ تبلیغ و اتحاد تمام مسلمہ — بیرون پاکستان تک وسیع ہو سکے گا۔
دستور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان — ابتدائیہ
جمعیۃ علماء اسلام کا قیام جن مقاصد کے حصول کے لئے عمل میں لایا گیا وہ اتنے کامل اور مکمل ہیں کہ ان میں کسی دور میں بھی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ البتہ بعض انتظامی امور میں نئے پیدا شدہ حالات کی وجہ سے بعض ترامیم کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے۔
مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس 5 اگست 2023ء بمطابق 17 محرم الحرام 1445ھ، جو سب آفس اسلام آباد میں ہوا اور دو دن جاری رہا، میں تمام دستوری ترامیم پر بحث و مباحثہ کے بعد انہیں دستور میں شامل کر کے حتمی شکل دے دی گئی۔
سلسلۂ ترامیم — تاریخی جائزہ
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے اغراض و مقاصد حسب ذیل ہوں گے:
- 1علماء اسلام کی رہنمائی میں مسلمانوں کی منتشر قوتوں کو جمع کر کے اقامت دین اور اشاعت اسلام کے لئے منظم جدوجہد کرنا اور اسلام کے شعائر کی حفاظت کرنا۔
- 2قرآن مجید واحادیث نبویہ کی روشنی میں تمام شعبوں — سیاسی، مذہبی، اقتصادی، معاشی اور ملکی انتظامات میں مسلمانوں کی راہنمائی کرنا۔
- 3پاکستان میں صحیح حکومت اسلامیہ برپا کرنا اور اسلامی عادلانہ نظام کے لئے ایسی کوشش کرنا جس سے باشندگان پاکستان سرمایہ داری اور اشتراکیت کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
- 4ایک جامع نظام تعلیم کی ترویج و ترقی کے لئے سعی کرنا جس سے مسلمانوں میں خشیت الٰہی، پابندی ارکان اسلام اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی صلاحیت پیدا ہو۔
- 5مسلمانان پاکستان کے دلوں میں جہاد فی سبیل اللہ، ملکی دفاع اور استحکام کے لئے جذبہ ایثار قربانی پیدا کرنا۔
- 6مسلمانوں میں اخوت اسلامیہ کو ترقی دینا اور صوبائی، علاقائی، لسانی اور نسلی تعصبات دور کرنا۔
- 7مسلمانان عالم سے اقامت دین، اعلاء کلمۃ اللہ کے سلسلے میں مستحکم روابط کا قیام۔
- 8تمام محکوم مسلم ممالک کی حریت و استقلال اور غیر مسلم ممالک کی مسلم اقلیتوں کی باعزت اسلامی زندگی کے لئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔
- 9مختلف اسلامی اداروں مثلاً مساجد، مدارس، کتب خانوں اور دارالایتام کی حفاظت، اصلاح اور ترقی کی کوشش کرنا۔
- 10تحریر و تقریر اور دیگر آئینی ذرائع سے باطل فرقوں کی فتنہ انگیزی اور مخالف اسلام کاروائیوں کی روک تھام کرنا۔
ہر بالغ پاکستانی شہری جمعیۃ علماء اسلام کا رکن بن سکتا ہے بشرطیکہ:
- 1وہ جمعیت کے اغراض و مقاصد سے متفق ہو۔
- 2پانچ سالہ مدت کے لئے 50 روپے فیس رکنیت ادا کرے۔
- 3جماعتی نظم و نسق کی پابندی اور پروگرام کو کامیاب بنانے کا عہد کرے۔
- 4فارم رکنیت پر دستخط کرے۔
- 5وہ کسی دوسری سیاسی یا مذہبی جماعت کا رکن نہ ہو۔
- 6قادیانی اور لاہوری جماعت (جو خود کو احمدی کہتے ہیں) وہ جمعیت کے رکن نہیں بن سکتے۔
- 1جمعیۃ علماء اسلام کی ایک مرکزی تنظیم ہوگی جس کے تحت تمام صوبائی جمعیتیں ہوں گی۔
- 2صوبائی جمعیتوں کی تنظیم پانچ سطحوں پر ہوگی:
- 3ہر سطح کے عہدیداران:امیر1نائب امیر4ناظم عمومی1ناظم4ناظم نشر و اشاعت1ناظم مالیات1سالار1کوآرڈینیٹر ڈیجیٹل میڈیا1
- 4ہر جمعیت کے لئے تین مجالس ہوں گی: مجلس عمومی، مجلس شوریٰ، مجلس عاملہ۔
- 1فارم رکنیت پر کرنے والے تمام ارکان ابتدائی جمعیۃ علماء اسلام کی مجلس عمومی کے ارکان ہوں گے۔
- 2نمائندگی کا تناسب:
ماتحت اکائی بالائی سطح تناسب ابتدائی ارکان تحصیل 30 : 1 تحصیل ارکان ضلع 2 : 1 ضلعی ارکان صوبہ 10 : 1 صوبائی ارکان مرکز 5 : 1 - 3صوبائی اور مرکزی مجلس عمومی کی رکنیت کے لئے پانچ سال ابتدائی رکن ہونا ضروری ہوگا۔
- 1مرکزی مجلس عاملہ کے انتخاب کی تاریخ سے پانچ سال کی مدت پوری ہونے پر آئندہ مدت کے لئے ناظم انتخابات مقرر کیا جائے گا۔
- 5رکن سازی: محرم، صفر، ربیع الاول اور ربیع الثانی میں رکن سازی ہوگی۔
- 6انتخاب شیڈول:
ماہ انتخابات کی سطح جمادی الاولیٰ تا رجب ابتدائی، تحصیل/ٹاؤن اور ضلعی شعبان صوبائی شوال مرکزی - 7امیر مرکزیہ بضرورت اس شیڈول میں ایک سال کی توسیع کر سکتے ہیں۔
- 4انتخابات سے کم از کم پندرہ دن پہلے تاریخ کا تعین ضروری ہے۔
- 5امیر کے انتخاب کے لئے ضروری اوصاف:
- الفاپنے حلقہ میں ممتاز شخصیت، ملکی حالات سے واقف ہو۔
- بعلمی، عملی اور اخلاقی اوصاف اور امانت، دیانت، ایثار اور استقامت کی وجہ سے اہل ہو۔
- ججماعتی ارکان صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوں۔
- 8کوئی سرکاری ملازم جمعیۃ علماء اسلام کا عہدیدار نہیں بن سکتا۔
- 9مجلس عمومی کے انتخابی اجلاس کے کورم کے لئے 2/3 ارکان کی اکثریت لازمی ہوگی۔
- 1ہر سطح کا امیر اپنی مجلس عمومی سے چند صائب الرائے حضرات کو نامزد کرے گا۔ تعداد بشمول عہدیداران زیادہ سے زیادہ ساٹھ (60) ہوگی۔
- 2ضلع میں 1/4 علماء دین، صوبہ اور مرکز میں 1/2 حصہ علماء کا ہونا ضروری ہوگا۔
- 2ابتدائی جمعیۃ علماء اسلام کی تشکیل کے لئے کم از کم بیس ارکان ضروری ہوں گے۔
- 3تحصیل کی سطح پر جمعیت کے قیام کے لئے ضروری ہوگا کہ کم از کم پانچ ابتدائی جمعیتیں موجود ہوں۔
- 5مجلس عمومی خفیہ پرچی کے ذریعہ امیر و ناظم عمومی منتخب کرے گی۔ مرکز و صوبہ میں نصف تعداد علماء کرام کا ہونا ضروری ہے۔
- 1تمام مجالس کے لئے کم از کم 1/3 ارکان کی حاضری ضروری ہے۔ کورم پورا نہ ہونے کی صورت میں اجلاس ملتوی ہوگا اور ملتوی اجلاس 24 گھنٹے بعد 15 دن کے اندر بلانا ضروری ہوگا۔
- 2تمام مجالس کی تنظیمی مدت سن ہجری کے مطابق ہوگی۔
مرکزی اور صوبائی جمعیت اپنی ضرورت کے مطابق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کے لئے درج ذیل شعبہ جات ترتیب دے سکیں گے:
- 1ہر سطح کی جمعیت کی مجلس عمومی اس جمعیت کا سب سے زیادہ بااختیار ادارہ ہوگا۔
- 4دستور کی ترمیم کے لئے مرکزی مجلس عمومی کے 2/3 ارکان اکثریت لازم ہوگی۔
- 7اجلاس کا شیڈول:
سطح کم از کم زیادہ سے زیادہ مرکزی سالانہ ایک بار ڈیڑھ سال صوبائی 6 ماہ میں ایک 1 سال ضلعی 4 ماہ میں ایک 6 ماہ تحصیل 3 ماہ میں ایک 4 ماہ ابتدائی ماہانہ ایک 2 ماہ - 11لگاتار دو اجلاسوں میں غیر حاضری پر امیر اس رکن کو معطل کرسکے گا۔
- 1مجلس شوریٰ پیش آمدہ معاملات میں اپنے امیر کی مشیر ہوگی۔
- 2مجلس شوریٰ کا اجلاس چھ ماہ میں ایک بار ہونا ضروری ہوگا۔
- 3نامزدگی یوم انتخاب سے ایک مہینے کے اندر، اور یہ نامزدگی پانچ سال کے لئے ہوگی۔
- 5لگاتار دو اجلاسوں میں غیر حاضری پر عذر طلبی ہوگی، تیسرے اجلاس میں غیر حاضری پر رکنیت خودبخود ختم۔
- 2مسلسل تین اجلاسوں میں غیر حاضری پر امیر جواب طلبی کرے گا، معقول عذر نہ ہونے پر عہدہ ختم۔
- 3لازمی رجسٹر:
- 1جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا امیر پورے جماعتی نظام کا نگران ہوگا۔
- 3امیر کی علالت یا غیر موجودگی میں عارضی طور پر نائب امیر اول قائم مقام امیر ہوگا۔
- 4عہدہ امارت خالی ہونے پر امیر کا انتخاب چھ ماہ کے اندر ضروری ہوگا۔
- 5امیر اپنی مجلس شوریٰ کے مشورے سے کام کرے گا، فیصلہ کثرت رائے سے ہوگا۔
- 6جن معاملات میں رائے برابر ہو وہاں آخری فیصلے کا اختیار امیر کو ہوگا۔
- 20ہر جمعیت کا امیر ماتحت عہدیداروں کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے اور فیصلے کے خلاف ایک ماہ کے اندر بالا امیر کے پاس اپیل کی جا سکتی ہے۔
- 1جمعیت کی طرف سے طے شدہ امور پر عمل درآمد کرانا اور ماتحت جمعیتوں کی کارکردگی کی دیکھ بھال کرنا۔
- 3دفتر اور تمام کاغذات باقاعدگی سے رکھنا، تمام فیصلوں کا ریکارڈ رکھنا اور امیر سے توثیق کرانا۔
- 6ناظم عمومی کے تنخواہ دار ملازمین کے تقرر، تنزل، تعطل، برخاستگی کا اختیار ہوگا اور امیر سے توثیق ضروری ہے۔
- 11ہر سطح کا ناظم عمومی حسابات کو چیک کرنے کے لئے محاسب مقرر کرسکتا ہے۔
چونکہ جمعیت کا اہم مقصد ترویج و اشاعت دین اسلام ہے، اس لئے ہر سطح کی جمعیت مبلغ مقرر کرے گی۔
- الففیس رکنیت: پانچ سالہ فیس 50 روپے۔ تقسیم:
سطح فیصد مرکزی جمعیت 50% صوبائی جمعیت 25% ضلعی جمعیت 15% تحصیل جمعیت 10% - بماہانہ چندہ:
سطح ماہانہ (روپے) مرکزی مجلس عاملہ 500 صوبائی مجلس عاملہ 300 ضلعی مجلس عاملہ 200 تحصیل مجلس عاملہ 100 ابتدائی مجلس عاملہ 50 - جخاص فنڈ: مرکزی یا صوبائی مجلس عاملہ بوقت ضرورت خاص مقصد کے لئے چندہ کی اپیل کر سکتی ہے۔
- دہدایا و تبرعات: جمعیت کے اغراض و مقاصد کے موافق ہدایا قبول کئے جا سکتے ہیں۔
- 1تمام آمدنی کا باقاعدہ حساب رکھنا اور روزنامچہ اور کھاتہ مرتب کرنا۔
- 4مجلس عاملہ کے ہر اجلاس میں مالی رپورٹ پیش کرنا۔
- 5سالانہ بجٹ تیار کرنا اور مجلس عاملہ سے منظور کرانا۔
- 6تمام حسابات کی سالانہ آڈٹ کرانا اور رپورٹ مجلس عاملہ و مجلس شوریٰ کے سامنے پیش کرنا۔
- 1ابتدائی جمعیت فیس رکنیت وصول کرے گی اور ایک ماہ کے اندر تحصیل جمعیت کو ارسال کرے گی۔
- 3جمعیت کے تمام بینک اکاؤنٹس مشترکہ دستخط (امیر + ناظم مالیات) سے چلائے جائیں گے۔
- 4جمعیت کے نام سے خریدی گئی تمام جائیداد اور اموال متعلقہ سطح کی جمعیت کی ملکیت شمار ہوں گے۔
جمعیت کا سرمایہ مندرجہ ذیل مصارف پر خرچ ہو سکے گا:
- 1دفاتر کا کرایہ، بجلی، ٹیلیفون اور دفتری اخراجات۔
- 2ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات۔
- 3تبلیغی اور تنظیمی سرگرمیوں کے اخراجات۔
- 4اشاعتی سرگرمیاں — کتب، رسائل، لیف لیٹس۔
- 5جمعیت کے اجلاسوں کے اخراجات۔
- 1ہر سطح کی جمعیت ایک ناظم نشر و اشاعت مقرر کرے گی۔
- 2جمعیت کی سرگرمیاں پرنٹ میڈیا تک پہنچانا اور اخبارات کے ذریعے جمعیت کا موقف عوام تک پہنچانا۔
- 5اخباری بیانات امیر یا ناظم عمومی کی اجازت سے جاری کئے جائیں گے۔
جمعیت مرکزی، صوبائی، ضلعی اور تحصیل سطح پر ڈیجیٹل میڈیا سیل تشکیل دے گی۔
- 1ڈیجیٹل میڈیا سیل مندرجہ ذیل پلیٹ فارمز پر جمعیت کی موجودگی یقینی بنائے گا:
- 4کوئی بھی رکن بغیر اجازت جمعیت کی پالیسی سے متصادم کوئی بیان یا پوسٹ نہیں کرے گا۔
- 1ناظم عمومی دفتر کا نگران ہوگا اور ضرورت کے مطابق ملازمین مقرر کرے گا۔
- 2جمعیت کا تمام ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا، کوئی بھی دستاویز امیر یا ناظم عمومی کی اجازت کے بغیر باہر نہیں جائے گی۔
- 3ناظم عمومی ہر سال کے آخر میں سالانہ رپورٹ تیار کرے گا جو مجلس شوریٰ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
جمعیۃ علماء اسلام کی رضاکار تنظیم انصار الاسلام ہوگی جو جمعیت کی تمام سرگرمیوں میں معاون اور نظم و ضبط کی ذمہ دار ہوگی۔
- 1یونیفارم: خاکی قمیص و شلوار، کالا عمامہ (دستار)، سیاہ جوتے۔
- 2انصار الاسلام کی قیادت سالار کریں گے جو مجلس عاملہ کے رکن ہوں گے۔
- 3جلسہ جلوس اور دیگر تقریبات میں نظم و ضبط قائم کریں گے۔
- 5انصار الاسلام کے لئے الگ دستور تیار کیا جائے گا جو مرکزی مجلس عاملہ سے منظور ہوگا۔
- 1پرچم کا رنگ سفید اور کالا ہوگا — اوپر سفید اور نیچے کالی پٹیاں۔
- 2پرچم کے درمیان جمعیت کا مونوگرام ہوگا۔
- 4پرچم کو ہمیشہ با احترام رکھا جائے گا اور اسے زمین پر نہیں رکھا جائے گا۔
- 1کرۂ ارض (گلوب) — عالمگیر اشاعت اسلام کی علامت۔
- 2دو تلواریں — اللہ کے راستے میں جہاد اور دفاع اسلام کی علامت۔
- 3گندم کی بالیاں — معاشی خوشحالی اور عوامی فلاح کی علامت۔
- 4اللہ اکبر — اسلامی نعرہ اور روحانی قوت کی علامت۔
- 6مونوگرام کو تبدیل کرنے کا حق صرف مرکزی مجلس عاملہ کو ہے۔
- 1مرکزی سطح پر ایک مجلس فقہ ہوگی جو دینی، شرعی اور فقہی مسائل میں جمعیت کی راہنمائی کرے گی۔
- 2مجلس فقہ کی سربراہی امیر مرکزیہ کریں گے اور ارکان وہ علماء ہوں گے جنہیں امیر نامزد کریں۔
- 4مجلس فقہ کا اجلاس سال میں کم از کم دو بار ہوگا۔
- 5ملکی اور بین الاقوامی اسلامی فقہی اداروں سے تعاون اور روابط رکھنا مجلس فقہ کی ذمہ داری ہوگی۔
- 1مرکزی سطح پر ایک انتخابی بورڈ ہوگا جو عام انتخابات میں جمعیت کی حکمت عملی طے کرے گا۔
- 2انتخابی بورڈ کی سربراہی امیر مرکزیہ کریں گے۔ بورڈ میں چاروں صوبوں کے امراء اور ناظمین عمومی شامل ہوں گے۔
- 3انتخابی بورڈ امیدواروں کی سکریننگ اور منظوری کرے گا اور حلقہ بندی کا فیصلہ کرے گا۔
- 4انتخابی بورڈ اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور دیگر سیاسی فیصلے کرے گا۔
- 6کوئی بھی رکن یا عہدیدار جو جمعیت کے امیدوار کے مقابلے میں الیکشن لڑے گا اسے جمعیت سے فوری برخاست کیا جائے گا۔
ترجمہ: میری توفیق صرف اللہ کی طرف سے ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان
