بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ  •  نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

دستور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان — ابتدائیہ

جمعیۃ علماء اسلام کا قیام جن مقاصد کے حصول کے لئے عمل میں لایا گیا وہ اتنے کامل اور مکمل ہیں کہ ان میں کسی دور میں بھی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ البتہ بعض انتظامی امور میں نئے پیدا شدہ حالات کی وجہ سے بعض ترامیم کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے۔

مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس 5 اگست 2023ء بمطابق 17 محرم الحرام 1445ھ، جو سب آفس اسلام آباد میں ہوا اور دو دن جاری رہا، میں تمام دستوری ترامیم پر بحث و مباحثہ کے بعد انہیں دستور میں شامل کر کے حتمی شکل دے دی گئی۔

سلسلۂ ترامیم — تاریخی جائزہ

1982ء
8 نومبر 1982ء — مجلس عمومی کے اجلاس (صدارت: مولانا عبدالکریم قریشی بیر شریف) میں ترامیم منظور کی گئیں۔
1992ء
9-11 نومبر 1992ء — لاہور میں مجلس عمومی کا اجلاس، دستوری ترامیم کا کام مرکزی مجلس شوریٰ کے سپرد۔
2001ء
9-11 جون 2001ء — جامعہ اسلامیہ شاہ ولی اللہ میں مرکزی شوریٰ کا اجلاس، تفصیلی بحث اور ترامیم۔
2015ء
17-18 جنوری 2015ء — جامعہ حامدیہ سکھر میں مجلس عمومی کا اجلاس (صدارت: مولانا فضل الرحمٰن
2022ء
20-21 اگست 2022ء — پشاور میں مجلس عمومی کا اجلاس — از سر نو جائزہ کمیٹی قائم، سربراہی: مولانا عبدالغفور حیدری۔
2023ء ✓ موجودہ
5 اگست 2023ء — مرکزی مجلس شوریٰ کے دو روزہ اجلاس میں تمام دستوری ترامیم کو حتمی شکل دی گئی۔
مولانا فضل الرحمٰن
امیر مرکزیہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان
مولانا عبدالغفور حیدری
ناظم عمومی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان
باب اول — تنظیم و تاسیس
1دفعہ
جمعیت کا نام
Name & Jurisdiction
  • الف
    اس جمعیت کا نام جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ہوگا۔ مرکزی دفتر لاہور، سب آفس اسلام آباد میں اور صوبائی دفاتر صوبوں کے صدر مقامات پر ہوں گے۔
  • ب
    اس جمعیت کا دائرہ عمل پورا پاکستان ہوگا۔
  • ج
    بلحاظ تبلیغ و اتحاد تمام مسلمہ — بیرون پاکستان تک وسیع ہو سکے گا۔
2دفعہ
اغراض و مقاصد
Objectives & Goals

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے اغراض و مقاصد حسب ذیل ہوں گے:

  • 1
    علماء اسلام کی رہنمائی میں مسلمانوں کی منتشر قوتوں کو جمع کر کے اقامت دین اور اشاعت اسلام کے لئے منظم جدوجہد کرنا اور اسلام کے شعائر کی حفاظت کرنا۔
  • 2
    قرآن مجید واحادیث نبویہ کی روشنی میں تمام شعبوں — سیاسی، مذہبی، اقتصادی، معاشی اور ملکی انتظامات میں مسلمانوں کی راہنمائی کرنا۔
  • 3
    پاکستان میں صحیح حکومت اسلامیہ برپا کرنا اور اسلامی عادلانہ نظام کے لئے ایسی کوشش کرنا جس سے باشندگان پاکستان سرمایہ داری اور اشتراکیت کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
  • 4
    ایک جامع نظام تعلیم کی ترویج و ترقی کے لئے سعی کرنا جس سے مسلمانوں میں خشیت الٰہی، پابندی ارکان اسلام اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی صلاحیت پیدا ہو۔
  • 5
    مسلمانان پاکستان کے دلوں میں جہاد فی سبیل اللہ، ملکی دفاع اور استحکام کے لئے جذبہ ایثار قربانی پیدا کرنا۔
  • 6
    مسلمانوں میں اخوت اسلامیہ کو ترقی دینا اور صوبائی، علاقائی، لسانی اور نسلی تعصبات دور کرنا۔
  • 7
    مسلمانان عالم سے اقامت دین، اعلاء کلمۃ اللہ کے سلسلے میں مستحکم روابط کا قیام۔
  • 8
    تمام محکوم مسلم ممالک کی حریت و استقلال اور غیر مسلم ممالک کی مسلم اقلیتوں کی باعزت اسلامی زندگی کے لئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔
  • 9
    مختلف اسلامی اداروں مثلاً مساجد، مدارس، کتب خانوں اور دارالایتام کی حفاظت، اصلاح اور ترقی کی کوشش کرنا۔
  • 10
    تحریر و تقریر اور دیگر آئینی ذرائع سے باطل فرقوں کی فتنہ انگیزی اور مخالف اسلام کاروائیوں کی روک تھام کرنا۔
3دفعہ
شرائط رکنیت
Membership Conditions

ہر بالغ پاکستانی شہری جمعیۃ علماء اسلام کا رکن بن سکتا ہے بشرطیکہ:

  • 1
    وہ جمعیت کے اغراض و مقاصد سے متفق ہو۔
  • 2
    پانچ سالہ مدت کے لئے 50 روپے فیس رکنیت ادا کرے۔
  • 3
    جماعتی نظم و نسق کی پابندی اور پروگرام کو کامیاب بنانے کا عہد کرے۔
  • 4
    فارم رکنیت پر دستخط کرے۔
  • 5
    وہ کسی دوسری سیاسی یا مذہبی جماعت کا رکن نہ ہو۔
  • 6
    قادیانی اور لاہوری جماعت (جو خود کو احمدی کہتے ہیں) وہ جمعیت کے رکن نہیں بن سکتے۔
4دفعہ
تشکیل
Organisational Structure
  • 1
    جمعیۃ علماء اسلام کی ایک مرکزی تنظیم ہوگی جس کے تحت تمام صوبائی جمعیتیں ہوں گی۔
  • 2
    صوبائی جمعیتوں کی تنظیم پانچ سطحوں پر ہوگی:
    ابتدائیتحصیل / ٹاؤنضلعیصوبائیمرکزی
  • 3
    ہر سطح کے عہدیداران:
    امیر1
    نائب امیر4
    ناظم عمومی1
    ناظم4
    ناظم نشر و اشاعت1
    ناظم مالیات1
    سالار1
    کوآرڈینیٹر ڈیجیٹل میڈیا1
  • 4
    ہر جمعیت کے لئے تین مجالس ہوں گی: مجلس عمومی، مجلس شوریٰ، مجلس عاملہ۔
5دفعہ
مجالس عمومی
General Councils
  • 1
    فارم رکنیت پر کرنے والے تمام ارکان ابتدائی جمعیۃ علماء اسلام کی مجلس عمومی کے ارکان ہوں گے۔
  • 2
    نمائندگی کا تناسب:
    ماتحت اکائیبالائی سطحتناسب
    ابتدائی ارکانتحصیل30 : 1
    تحصیل ارکانضلع2 : 1
    ضلعی ارکانصوبہ10 : 1
    صوبائی ارکانمرکز5 : 1
  • 3
    صوبائی اور مرکزی مجلس عمومی کی رکنیت کے لئے پانچ سال ابتدائی رکن ہونا ضروری ہوگا۔
نوٹ:رکن سازی کی مدت ختم ہونے کے بعد رکن بننے والا کوئی شخص انتخاب میں حصہ نہیں لے سکے گا۔
باب دوم — انتخابات و مجالس
6دفعہ
ناظم انتخابات
Election Commission
  • 1
    مرکزی مجلس عاملہ کے انتخاب کی تاریخ سے پانچ سال کی مدت پوری ہونے پر آئندہ مدت کے لئے ناظم انتخابات مقرر کیا جائے گا۔
  • 5
    رکن سازی: محرم، صفر، ربیع الاول اور ربیع الثانی میں رکن سازی ہوگی۔
  • 6
    انتخاب شیڈول:
    ماہانتخابات کی سطح
    جمادی الاولیٰ تا رجبابتدائی، تحصیل/ٹاؤن اور ضلعی
    شعبانصوبائی
    شوالمرکزی
  • 7
    امیر مرکزیہ بضرورت اس شیڈول میں ایک سال کی توسیع کر سکتے ہیں۔
7دفعہ
انتخابات کے لئے ضروری قواعد
Election Rules & Regulations
  • 4
    انتخابات سے کم از کم پندرہ دن پہلے تاریخ کا تعین ضروری ہے۔
  • 5
    امیر کے انتخاب کے لئے ضروری اوصاف:
    • الفاپنے حلقہ میں ممتاز شخصیت، ملکی حالات سے واقف ہو۔
    • بعلمی، عملی اور اخلاقی اوصاف اور امانت، دیانت، ایثار اور استقامت کی وجہ سے اہل ہو۔
    • ججماعتی ارکان صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوں۔
  • 8
    کوئی سرکاری ملازم جمعیۃ علماء اسلام کا عہدیدار نہیں بن سکتا۔
  • 9
    مجلس عمومی کے انتخابی اجلاس کے کورم کے لئے 2/3 ارکان کی اکثریت لازمی ہوگی۔
8دفعہ
مجالس شوریٰ
Advisory Shura Councils
  • 1
    ہر سطح کا امیر اپنی مجلس عمومی سے چند صائب الرائے حضرات کو نامزد کرے گا۔ تعداد بشمول عہدیداران زیادہ سے زیادہ ساٹھ (60) ہوگی۔
  • 2
    ضلع میں 1/4 علماء دین، صوبہ اور مرکز میں 1/2 حصہ علماء کا ہونا ضروری ہوگا۔
عالم دین کی تعریف:وہ مسلمان جس نے کسی باقاعدہ مدرسہ عربیہ میں یا کسی معتمد عالم دین سے علوم عربیہ اسلامیہ کی تکمیل کی ہو۔
9دفعہ
مجالس عاملہ
Executive Committees
  • 2
    ابتدائی جمعیۃ علماء اسلام کی تشکیل کے لئے کم از کم بیس ارکان ضروری ہوں گے۔
  • 3
    تحصیل کی سطح پر جمعیت کے قیام کے لئے ضروری ہوگا کہ کم از کم پانچ ابتدائی جمعیتیں موجود ہوں۔
  • 5
    مجلس عمومی خفیہ پرچی کے ذریعہ امیر و ناظم عمومی منتخب کرے گی۔ مرکز و صوبہ میں نصف تعداد علماء کرام کا ہونا ضروری ہے۔
10دفعہ
نصاب (کورم)
Quorum Requirements
  • 1
    تمام مجالس کے لئے کم از کم 1/3 ارکان کی حاضری ضروری ہے۔ کورم پورا نہ ہونے کی صورت میں اجلاس ملتوی ہوگا اور ملتوی اجلاس 24 گھنٹے بعد 15 دن کے اندر بلانا ضروری ہوگا۔
  • 2
    تمام مجالس کی تنظیمی مدت سن ہجری کے مطابق ہوگی۔
11دفعہ
شعبہ جات
Departmental Wings

مرکزی اور صوبائی جمعیت اپنی ضرورت کے مطابق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کے لئے درج ذیل شعبہ جات ترتیب دے سکیں گے:

شعبہ بین الاقوامی تعلقاتجمعیت لائرز فورمجمعیت بزنس فورمجمعیت اساتذہ فورمجمعیت خواتین فورمجمعیت ڈاکٹرز فورمجمعیت اقلیت فورمجمعیت نوجوانان فورم
باب سوم — اختیارات و فرائض
12دفعہ
مجلس عمومی کے فرائض و اختیارات
Powers of General Council
  • 1
    ہر سطح کی جمعیت کی مجلس عمومی اس جمعیت کا سب سے زیادہ بااختیار ادارہ ہوگا۔
  • 4
    دستور کی ترمیم کے لئے مرکزی مجلس عمومی کے 2/3 ارکان اکثریت لازم ہوگی۔
  • 7
    اجلاس کا شیڈول:
    سطحکم از کمزیادہ سے زیادہ
    مرکزیسالانہ ایک بارڈیڑھ سال
    صوبائی6 ماہ میں ایک1 سال
    ضلعی4 ماہ میں ایک6 ماہ
    تحصیل3 ماہ میں ایک4 ماہ
    ابتدائیماہانہ ایک2 ماہ
  • 11
    لگاتار دو اجلاسوں میں غیر حاضری پر امیر اس رکن کو معطل کرسکے گا۔
13دفعہ
فرائض و اختیارات مجلس شوریٰ
Powers of Shura Council
  • 1
    مجلس شوریٰ پیش آمدہ معاملات میں اپنے امیر کی مشیر ہوگی۔
  • 2
    مجلس شوریٰ کا اجلاس چھ ماہ میں ایک بار ہونا ضروری ہوگا۔
  • 3
    نامزدگی یوم انتخاب سے ایک مہینے کے اندر، اور یہ نامزدگی پانچ سال کے لئے ہوگی۔
  • 5
    لگاتار دو اجلاسوں میں غیر حاضری پر عذر طلبی ہوگی، تیسرے اجلاس میں غیر حاضری پر رکنیت خودبخود ختم۔
14دفعہ
فرائض و اختیارات مجلس عاملہ
Executive Committee Powers
  • 2
    مسلسل تین اجلاسوں میں غیر حاضری پر امیر جواب طلبی کرے گا، معقول عذر نہ ہونے پر عہدہ ختم۔
  • 3
    لازمی رجسٹر:
    رجسٹر آمد و خرچرجسٹر اندراج اراکینرجسٹر ماہانہ چندہرجسٹر خط و کتابترجسٹر کارروائی مجالسفائل نقول و ریکارڈرجسٹر کٹنگ اخباراترجسٹر اشیاء مملوکرجسٹر چارجفائل اخباری بیاناتفائل رسیدات اخراجاترجسٹر معائنہ
15دفعہ
امیر کے فرائض و اختیارات
Amir’s Powers & Duties
  • 1
    جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا امیر پورے جماعتی نظام کا نگران ہوگا۔
  • 3
    امیر کی علالت یا غیر موجودگی میں عارضی طور پر نائب امیر اول قائم مقام امیر ہوگا۔
  • 4
    عہدہ امارت خالی ہونے پر امیر کا انتخاب چھ ماہ کے اندر ضروری ہوگا۔
  • 5
    امیر اپنی مجلس شوریٰ کے مشورے سے کام کرے گا، فیصلہ کثرت رائے سے ہوگا۔
  • 6
    جن معاملات میں رائے برابر ہو وہاں آخری فیصلے کا اختیار امیر کو ہوگا۔
  • 20
    ہر جمعیت کا امیر ماتحت عہدیداروں کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے اور فیصلے کے خلاف ایک ماہ کے اندر بالا امیر کے پاس اپیل کی جا سکتی ہے۔
16دفعہ
ناظم عمومی کے فرائض و اختیارات
Secretary General’s Powers
  • 1
    جمعیت کی طرف سے طے شدہ امور پر عمل درآمد کرانا اور ماتحت جمعیتوں کی کارکردگی کی دیکھ بھال کرنا۔
  • 3
    دفتر اور تمام کاغذات باقاعدگی سے رکھنا، تمام فیصلوں کا ریکارڈ رکھنا اور امیر سے توثیق کرانا۔
  • 6
    ناظم عمومی کے تنخواہ دار ملازمین کے تقرر، تنزل، تعطل، برخاستگی کا اختیار ہوگا اور امیر سے توثیق ضروری ہے۔
  • 11
    ہر سطح کا ناظم عمومی حسابات کو چیک کرنے کے لئے محاسب مقرر کرسکتا ہے۔
17دفعہ
نظم مبلغین
Preaching Corps

چونکہ جمعیت کا اہم مقصد ترویج و اشاعت دین اسلام ہے، اس لئے ہر سطح کی جمعیت مبلغ مقرر کرے گی۔

فرائض مبلغین:مبلغین جماعت کے اغراض و مقاصد کی اشاعت اور دینی احکام کی ترویج کے لئے طے شدہ علاقہ کا دورہ کریں گے۔ ان کا پروگرام متعلقہ جمعیت مشورہ سے طے کرے گی۔
باب چہارم — مالیات و اشاعت
18دفعہ
شعبہ مالیات
Finance Department
  • الف
    فیس رکنیت: پانچ سالہ فیس 50 روپے۔ تقسیم:
    سطحفیصد
    مرکزی جمعیت50%
    صوبائی جمعیت25%
    ضلعی جمعیت15%
    تحصیل جمعیت10%
  • ب
    ماہانہ چندہ:
    سطحماہانہ (روپے)
    مرکزی مجلس عاملہ500
    صوبائی مجلس عاملہ300
    ضلعی مجلس عاملہ200
    تحصیل مجلس عاملہ100
    ابتدائی مجلس عاملہ50
  • ج
    خاص فنڈ: مرکزی یا صوبائی مجلس عاملہ بوقت ضرورت خاص مقصد کے لئے چندہ کی اپیل کر سکتی ہے۔
  • د
    ہدایا و تبرعات: جمعیت کے اغراض و مقاصد کے موافق ہدایا قبول کئے جا سکتے ہیں۔
19دفعہ
ناظم مالیات کے فرائض
Finance Secretary Duties
  • 1
    تمام آمدنی کا باقاعدہ حساب رکھنا اور روزنامچہ اور کھاتہ مرتب کرنا۔
  • 4
    مجلس عاملہ کے ہر اجلاس میں مالی رپورٹ پیش کرنا۔
  • 5
    سالانہ بجٹ تیار کرنا اور مجلس عاملہ سے منظور کرانا۔
  • 6
    تمام حسابات کی سالانہ آڈٹ کرانا اور رپورٹ مجلس عاملہ و مجلس شوریٰ کے سامنے پیش کرنا۔
20دفعہ
مالیات کی وصولی اور ترسیل
Collection & Transfer of Funds
  • 1
    ابتدائی جمعیت فیس رکنیت وصول کرے گی اور ایک ماہ کے اندر تحصیل جمعیت کو ارسال کرے گی۔
  • 3
    جمعیت کے تمام بینک اکاؤنٹس مشترکہ دستخط (امیر + ناظم مالیات) سے چلائے جائیں گے۔
  • 4
    جمعیت کے نام سے خریدی گئی تمام جائیداد اور اموال متعلقہ سطح کی جمعیت کی ملکیت شمار ہوں گے۔
21دفعہ
مدات مصارف
Expenditure Heads

جمعیت کا سرمایہ مندرجہ ذیل مصارف پر خرچ ہو سکے گا:

  • 1
    دفاتر کا کرایہ، بجلی، ٹیلیفون اور دفتری اخراجات۔
  • 2
    ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات۔
  • 3
    تبلیغی اور تنظیمی سرگرمیوں کے اخراجات۔
  • 4
    اشاعتی سرگرمیاں — کتب، رسائل، لیف لیٹس۔
  • 5
    جمعیت کے اجلاسوں کے اخراجات۔
مالی ضابطہ:پانچ ہزار روپے سے زیادہ کے اخراجات کے لئے مجلس عاملہ کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔ مرکزی سطح پر یہ حد بیس ہزار روپے ہوگی۔
22دفعہ
شعبہ نشر و اشاعت
Publications Department
  • 1
    ہر سطح کی جمعیت ایک ناظم نشر و اشاعت مقرر کرے گی۔
  • 2
    جمعیت کی سرگرمیاں پرنٹ میڈیا تک پہنچانا اور اخبارات کے ذریعے جمعیت کا موقف عوام تک پہنچانا۔
  • 5
    اخباری بیانات امیر یا ناظم عمومی کی اجازت سے جاری کئے جائیں گے۔
23دفعہ
ڈیجیٹل میڈیا سیل
Digital Media Cell

جمعیت مرکزی، صوبائی، ضلعی اور تحصیل سطح پر ڈیجیٹل میڈیا سیل تشکیل دے گی۔

  • 1
    ڈیجیٹل میڈیا سیل مندرجہ ذیل پلیٹ فارمز پر جمعیت کی موجودگی یقینی بنائے گا:
    ▶ یوٹیوب📘 فیس بک💬 واٹس ایپ🐦 ٹوئٹر / X📷 انسٹاگرام🎵 ٹک ٹاک
  • 4
    کوئی بھی رکن بغیر اجازت جمعیت کی پالیسی سے متصادم کوئی بیان یا پوسٹ نہیں کرے گا۔
باب پنجم — فروع اور انتظامیہ
24دفعہ
نظم و دفتر
Administration & Office
  • 1
    ناظم عمومی دفتر کا نگران ہوگا اور ضرورت کے مطابق ملازمین مقرر کرے گا۔
  • 2
    جمعیت کا تمام ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا، کوئی بھی دستاویز امیر یا ناظم عمومی کی اجازت کے بغیر باہر نہیں جائے گی۔
  • 3
    ناظم عمومی ہر سال کے آخر میں سالانہ رپورٹ تیار کرے گا جو مجلس شوریٰ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
25دفعہ
انصار الاسلام
Ansar-ul-Islam Volunteer Wing

جمعیۃ علماء اسلام کی رضاکار تنظیم انصار الاسلام ہوگی جو جمعیت کی تمام سرگرمیوں میں معاون اور نظم و ضبط کی ذمہ دار ہوگی۔

  • 1
    یونیفارم: خاکی قمیص و شلوار، کالا عمامہ (دستار)، سیاہ جوتے۔
  • 2
    انصار الاسلام کی قیادت سالار کریں گے جو مجلس عاملہ کے رکن ہوں گے۔
  • 3
    جلسہ جلوس اور دیگر تقریبات میں نظم و ضبط قائم کریں گے۔
  • 5
    انصار الاسلام کے لئے الگ دستور تیار کیا جائے گا جو مرکزی مجلس عاملہ سے منظور ہوگا۔
باب ششم — علامات و مخصوص ادارے
26دفعہ
پرچم
Party Flag
  • 1
    پرچم کا رنگ سفید اور کالا ہوگا — اوپر سفید اور نیچے کالی پٹیاں۔
  • 2
    پرچم کے درمیان جمعیت کا مونوگرام ہوگا۔
  • 4
    پرچم کو ہمیشہ با احترام رکھا جائے گا اور اسے زمین پر نہیں رکھا جائے گا۔
سفید
سیاہ
27دفعہ
مونوگرام / نشان
Party Monogram & Logo
  • 1
    کرۂ ارض (گلوب) — عالمگیر اشاعت اسلام کی علامت۔
  • 2
    دو تلواریں — اللہ کے راستے میں جہاد اور دفاع اسلام کی علامت۔
  • 3
    گندم کی بالیاں — معاشی خوشحالی اور عوامی فلاح کی علامت۔
  • 4
    اللہ اکبر — اسلامی نعرہ اور روحانی قوت کی علامت۔
  • 6
    مونوگرام کو تبدیل کرنے کا حق صرف مرکزی مجلس عاملہ کو ہے۔
28دفعہ
مجلس فقہ
Fiqh Council
  • 1
    مرکزی سطح پر ایک مجلس فقہ ہوگی جو دینی، شرعی اور فقہی مسائل میں جمعیت کی راہنمائی کرے گی۔
  • 2
    مجلس فقہ کی سربراہی امیر مرکزیہ کریں گے اور ارکان وہ علماء ہوں گے جنہیں امیر نامزد کریں۔
  • 4
    مجلس فقہ کا اجلاس سال میں کم از کم دو بار ہوگا۔
  • 5
    ملکی اور بین الاقوامی اسلامی فقہی اداروں سے تعاون اور روابط رکھنا مجلس فقہ کی ذمہ داری ہوگی۔
29دفعہ
انتخابی بورڈ
Electoral Board
  • 1
    مرکزی سطح پر ایک انتخابی بورڈ ہوگا جو عام انتخابات میں جمعیت کی حکمت عملی طے کرے گا۔
  • 2
    انتخابی بورڈ کی سربراہی امیر مرکزیہ کریں گے۔ بورڈ میں چاروں صوبوں کے امراء اور ناظمین عمومی شامل ہوں گے۔
  • 3
    انتخابی بورڈ امیدواروں کی سکریننگ اور منظوری کرے گا اور حلقہ بندی کا فیصلہ کرے گا۔
  • 4
    انتخابی بورڈ اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور دیگر سیاسی فیصلے کرے گا۔
  • 6
    کوئی بھی رکن یا عہدیدار جو جمعیت کے امیدوار کے مقابلے میں الیکشن لڑے گا اسے جمعیت سے فوری برخاست کیا جائے گا۔
انتہائی اہم:انتخابی بورڈ کا ہر فیصلہ جمعیت کے تمام عہدیداروں اور ارکان پر دستوری طور پر لازم ہوگا۔ خلاف ورزی تنظیمی کاروائی کا باعث بنے گی۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللّٰهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

ترجمہ: میری توفیق صرف اللہ کی طرف سے ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

مولانا فضل الرحمٰن
امیر مرکزیہ
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان
مولانا عبدالغفور حیدری
ناظم عمومی
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان